انوارالعلوم (جلد 8) — Page 431
انوار العلوم جلد ۸ ۳۱ A دورہ یورپ یوروپین تمدن چھوڑنے میں مشکلات اب دوسری صورت یہ ہے کہ ہم یورپ میں سرنگ لگانی شروع کردیں اور اس کے رو بغیر ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں۔ مگر یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ایک دن میں چار پانچ کروڑ لوگ مسلمان ہو جائیں۔ اور ان کا الگ انتظام قائم ہو جائے وہ الگ اپنی سوسائٹی قائم کر لیں۔ لیکن اگر ایک ایک دو کر کے لوگ مسلمان ہوں تو وہ یورپ میں رہ رہ کر کر یورپ یورپ ۔ کے تمدن کو چھوڑنا چاہیں بھی بھی تو نہیں چھوڑ سکتے۔ مثلاً پردہ ہے۔ اول تو وہاں برادری اور دوستوں کے طنز کی برداشت ہی تو مسلم کے لئے ناممکن ہے اور اگر وہ تیار ہوا تو پھر وہاں کے حالات روک ہیں۔ پردہ کرنے والے ملکوں میں مکان ایسے بنائے جاتے ہیں کہ عورتیں گھر میں رہ کر بھی ہوا کھا سکیں، صحن ضرور ساتھ ہوتے ہیں مگر یورپ میں الگ صحن کا رواج نہیں ، صرف کمروں میں لوگ لوگ رہتے ہیں۔ اب یہ اب یہ خیال کرنا کہ ایک نو مسلمہ رات اور دن ایک کمرہ میں بیٹھی رہے بالکل عقل کے خلاف ہے۔ پھر ایک اور سوال یہ ہے کہ وہاں گزارہ اس قدر گراں ہے کہ مرد کو سارا دن محنت کرنی پڑتی ہے اور وہ گھر کے کام میں عورت کی مدد نہیں کر سکتا۔ عورت اگر سودا نہ لائے تو گھر کا کام چل نہیں سکتا۔ وہ پردہ کرے تو گھر کا سودا کس طرح لائے۔ بے شک وہ نقاب سے کام لے سکتی ہے اور عورت کو سودا خرید نا منع نہیں ہے مگر پھر ایک اور دقت ہے اور وہ یہ کہ یورپ ہندوستان کی طرح نہیں۔ وہاں گلیوں میں اس قدر موٹر چلتا رہتا ہے کہ جب تک آنکھیں پھاڑ کر اور ہوشیار ہو کر آدمی نہ چلے اس کی جان ہر وقت خطرہ میں ہے۔ ایک ایک شہر میں سینکڑوں آدمی ہر سال موٹروں کے نیچے آکر مر جاتے ہیں۔ پس نقابیں پہن کر عورتوں کا پھرنا نہایت خطرناک اور موجب ہلاکت ہے۔ چند مسلمان ہونے والی عورتوں اور مردوں کے لئے حکومتیں اپنے قانون نہیں بدلیں گی، مکانوں والے اپنے مکان نہیں توڑ ڈالیں گے، پھر وہ لوگ کریں تو کیا کریں۔ یہ تو ایک چھوٹی سی مثال ہے ورنہ سینکڑوں دقتیں ہیں جو مغرب کی تبلیغ کے راستہ میں ہیں اور جن میں سے بہت سی ایسی ہیں کہ ان میں مغربی نو مسلم مجبور ہوتا ہے۔ پس یہی ہو گا کہ وہ اسلام کو قبول کر کے بھی اپنی رسموں کو نہیں چھوڑے گا اور مسلمان ہونے کے بعد جب وہ وہی کام کرتا رہے گا جو وہ پہلے کرتا تھا تو آہستہ آہستہ اس میں یہ خیال پیدا ہو جائے گا کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام ایک بدلی ہوئی صورت میں یورپ میں قائم ہو جائے گا اور ان سے آگے وہ اسلام ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔ جس طرح یورپ نے مسیحیت کو تباہ کیا تھا العِيَاذُ بِاللهِ ، وہ اسلام کو بھی دوستی