انوارالعلوم (جلد 8) — Page 422
۴۲۲ دوره یو رپ متعلق ہمیں مئی میں علم ہوا ہے۔اسکے بعد میں نے مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ اس میں مضمون بھیجنا چاہیے۔اطلاع نامکمل تھی اس لئے سیکرٹری کو تار دی گئی اور اس کا جواب ۲امئی کے قریب ملا۔پھر مشورہ کیا گیا اور بعض لوگوں کی اس تجویز پر بھی غور کیا گیا کہ مجھے خود جانا چاہیے۔اس مشورہ کے نتیجہ کے بعد میں نے باہر کے دوستوں سے بھی مشورہ پوچھا اور چونکہ مسلم لیگ کا اجلاس تھا اور اس میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے تعلقات کا سوال پیش تھا جس کا اثر خود ہماری جماعت پر اور اسلام کی ترقی پر بھی پڑتا تھا اس لئے میں اس کام میں مشغول ہوگیا۔تیئس تاریخ تک میں اس کام سے فارغ ہوا۔مذہبی کانفرنس کے لئے مضمون لکھنا اور چوبیس کو میں نے مضمون لکھنا شروع کیا۔جو اس قدر وسیع ہوگیا کہ اس کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔یعنی ساڑھے چارسَو کالم تک پہنچ گیا۔دو دن میں بیمار رہا ،کل بارہ دن میں چھ جون تک یہ مضمون ختم ہوا۔چونکہ میں مضمون اردومیں لکھتا ہوں اور دوسرے دوست اسے انگریزی میں ترجمہ کرتے ہیں۔اس لئے میرے لئے ایسے مضامین کے متعلق کئی کام ہوتے ہیں - اول مضمون کا لکھنا، دوسرے اس کی نظر ثانی کرنا اور غلطیوں کا درست کرنا ،حوالوں کا لگانا وغیرہ۔تیسرے جو ترجمہ انگریزی میں ہو اہو اس کو سننا اور اس کا اُردو کے مضمون سے مقابلہ کر کے دیکھنا کہ آیا ترجمہ صحیح بھی ہوگیا ہے یا نہیں اور مطلب کو واضح کرتا ہے یا نہیں۔ساتھ ساتھ دوسرے ساتھی جو انگریزی کے واقف ہوتے ہیں، مضمون کی انگریزی زبان میں بھی مناسب اصلاح کرتے چلے جاتے ہیں بالعموم یہ اصلاح اور مقابلہ بھی اتناہی وقت لیتا ہے جتنا کہ اصل مضمون کی تصنیف۔نظر ثانی بھی بہت ساوقت لیتی ہے۔اس قدر لمبے مضمون کے متعلق جو دقّت ہوسکتی تھی وہ سمجھ میں آسکتی ہے۔مضمون لکھنے کے دنوں میں بھی مجھے بسا اوقات رات کے بارہ بارہ بجے تک اور بعض دفعہ تو دو دو بجے تک بیٹھنا پڑتا تھا۔اس شدید گرمی کے موسم میں جبکہ ان کو کام بھی مشکل ہوتا ہے، رات کے وقت لیمپ کی روشنی میں بارہ بارہ بجے تک کام کرنا سخت مشکل کام ہے اور میرے جیسے کمزور صحت کے آدمی کے لئے تو ناممکن معلوم ہوتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمت بخش دی اور کام ہوگیا۔اس کے بعد نظر ثانی کاکام شروع ہوا اور پھر ترجمہ کے مقابلہ اور اصلاح کا۔چونکہ مضمون کے لکھنے کے دنوں میں ملاقاتوں اور ڈاک کے کام کو ہلکا کردیا تھا۔اس لئے اب وہ کام بھی جمع ہوگیا۔پس نصف دن اس کے لئے لگانا ہے اور نصف مضمون کے لئے۔اور اسوجہ سے یہ نظر