انوارالعلوم (جلد 8) — Page 415
۴۱۵ دوره یو رپ اپنے حصے کے مریضوں کی صحت کے لئے دعا کریں۔آپ کا دعوی ٰتھا کہ اگر یہ طریق فیصلہ اختیار کیا جائے تو آپ کو اپنے مخالف پر یقیناً کھلی کھلی ایسی فتح دی جائے گی کہ دنیا اس اقرار کے لئے مجبور ہو جائے گی کہ آپ کے ساتھ خدا کی نصرت کا ہاتھ تھا۔۱۸؎ لیکن یہ سوال ہو سکتا ہے کہ مسیح موعود تو وفات پا چکے ہیں اب اس طریق کو استعمال کرکے آپ کے دعاوی کے متعلق فیصلہ کیسے ممکن ہو سکتاہے۔اس کے جواب میں میں یہ مزیدبتائے دیتا ہوں کہ نبی ایک نمائش کے لئے نہیں بھیجا جاتا وہ تمام دنیا کے لئے رحمت ہوتا ہے اور نہ صرف خوشی کی خبر کا بلکہ فیوض و برکات کا لانے والا ہوتا ہے۔آپ کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے اپنے بعد ایک ایسی جماعت چھوڑی جس کی معرفت خدا اب بھی اپنے نشان ظاہر کرتا ہے۔پس اگر ایک ایسی قوم جس کے حق کو قبول کرنے سے حق کی مزید اشاعت ہو سکتی ہو نشان دیکھنا چاہتی ہے تو گو مسیح موعود وفات پا چکے ہیں مجھے کامل یقین ہے کہ خدا آپ کے پیروؤں کے ہاتھوں پر ایسانشان دکھادے گا کیونکہ وہ اپنے چاکروں سے شفقت کرنے والا ہے اور ہمیشہ ان کو تاریکی سے روشنی کی طرف لے جانا پسند کرتا ہے۔احمدیت کے ان اصولوں کی اس ضروری کیفیت کے بیان کردینے کے بعد میں ان کو جو موجود ہیں اور ان کی معرفت ان تمام کو جو مشرق اور مغرب میں رہتے ہیں یہ پیغام پہنچا دینا چاہتا ہوں بہنو اور بھائیو! خدا کی روشنی تمہارے لئے چمک اٹھی ہے اوروہ جس کو دنیا بوجہ مرورِ زمانہ ایک عجیب فسانہ خیال کرنے کی تھی تمہاری عین آنکھوں کے سامنے ظاہر ہو گیا ہے۔خدا کا جلال ایک نبی کے ذریعے تم پر ظاہر کیا گیا ہے ہاں ایسانبی جس کی بعثت کی خبر نوح ؑسے لے کر محمدﷺ تک تمام انبیاء نے پہلے سے دی تھی خدا نے آج تمہارے لئے پھر یہ امر ثابت کردیا کہ میں صرف انکا خد انہیں جو مرچکے ہیں بلکہ ان کا بھی خدا ہوں جو زندہ ہیں۔اور نہ صرف ان کا خدا ہوں جو پہلے گزر چکے ہیں بلکہ ان کا بھی خدا ہوں جو آئندہ آئیں گے۔پس تم اس روشنی کو قبول کرو اور اپنے دلوں کو اس سے منور کرلو۔بہنو اور بھائیو!یہ زندگی عارضی ہے لیکن یہ خیال کر ناغلطی ہے کہ اس کے بعد فناہے۔فنا تو کوئی چیزہی نہیں۔روح کو فنا کے لئے نہیں بلکہ ابدی زندگی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اپنی پیدائش کے لمحے سے لے کر انسان ایک نہ ختم ہونے والے رستے پر چلنا شروع کردیتا ہے اور سوائے اس کے کہ موت اس کی رفتار کی تیزی کا ذریعہ ہو اور کچھ نہیں۔یہ کیا بات ہے کہ تم جو چھوٹے چھوٹے مقابلوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی لگاتار کوشش میں لگے رہتے ہو اس بڑے مقابلہ کو نظرانداز