انوارالعلوم (جلد 8) — Page 405
۴۰۵ دوره یورپ کرنے اور امن عامہ اور ضبط برقرار رکھنے کی غرض سے گورنمنٹ کی ثالثوں کے ذریعے جھگڑے کے امور کو بحث میں لا کر فیصلہ کرنے کی تجویز پیش کی۔لیکن آپ کبھی بھی ضمیر کی آزادی یا لوگوں کے حقوق میں کسی قسم کی دخل اندازی پسند نہیں فرماتے تھے۔واقعہ میں اسلام افراد کے حقوق کا اس حد تک احترام کرتا ہے کہ وہ حکومت کو حکم دیتا ہے کہ ایک مزدور کو اس کے کام کی پوری پوری اُجرت دینا اس پر فرض ہے۔جہاں ایک طرف مسیح موعود نے غرباء کے حقوق پر خاص زور دیا اور تعلیم دی کہ ہمیں ان کو اپنے بھائی خیال کرنا چاہے دوسری طرف آپ نے یہ بھی سکھایا کہ ایک آدمی کو اپنے آپ کو اس سے محروم نہیں کر دینا چاہئے جو اس نے اپنے قویٰ کو استعمال کر کے حاصل کیا۔آپ سمجھتے تھے کہ مقابلہ کی روح جو کہ لیا قتوں یا قابلیتوں میں اختلاف کا نتیجہ ہے دنیا کی ترقی کے لئے ضروری ہے لیکن دوسری طرف امراء پر واجب قرار دیا کہ وہ ایک خاص حصہ اپنے اموال کا جو کہ اسلام نے مقرر کردیا ہے حکومت کے سپرد کریں جسے حکومت غرباء کی بہبودی میں صرف کرے اور انہیں اپنی ذاتی خواہشات کو پورا کرنے کی بجائے فاضلہ رو پیہ ایسے کاموں میں لگانا چاہئے جو عوام کے لئے نفع رساں ہوں یاکہوں کو ان کو اس سرور کے مقابلے میں جو دولت کے اکٹھا کرنے میں حاصل ہوتا ہے اس سرور کو ترجیح دینی چاہئے جو اس کو بانٹ دینے سے حاصل ہو اس لحاظ سے اسلام کی تعلیم بے نظیر ہے۔اسلام پرائیویٹ ملکیت ِمال کے اصول کاحامی ہے لیکن وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ کوئی شخص بغیر ان سرچشموں کی امداد کے جو تمام انسانوں کی یکساں ملکیت ہیں امیر نہیں ہو سکتا اور اس واسطے اسلام صاف طور پر حکم دیتا ہے کہ امراء کی دولت کا ایک خاص حصہ علیحدہ کردیا جائے اور وہ حکومت کی معرفت غرباء کی بہبود کے لئے بطور اس امداد کے معاوضے کے خرچ ہو جائے جو تمام ایسے منبعوں سے حاصل کی گئی تھی۔اسلام حکومت کا یہ فرض قرار دیا ہے کہ وہ غرباء کو ان کی ضروریات زندگی او رذرائع تعلیم بہم پہنچائے۔ملکوں کے باہمی تعلقات کے متعلق اپنے بیان کیا کہ وہ کبھی اطمینان بخش بناء پر قائم نہیں ہو سکتے جب تک کہ یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اقوام اور حکومتیں بھی ایسے ہی اخلاق کی پابند ہیں جیسے کہ افراد۔واقعہ میں قومی خساروں کی کثرت اس تمام غلط اصول کا نتیجہ ہے کہ حکومتوں کو ان اخلاق پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت نہیں ہے جو ایک فرد کے لئے ضروری ہیں۔دنیا کے امن کے لئے آپ اس کو بھی ضروری خیال فرماتے تھے کہ ہر ایک حکومت کی رعایا