انوارالعلوم (جلد 8) — Page 403
۴۰۳ دوره یورپ قسم کی اخلاقی ہدایت نہیں کہلاسکتی۔صرف وہی مذہب اخلاقی ہدایت دینے کامدعی ہو سکتا ہے جو ایسے قوانین بتائے جن سے طبعی جذبات کے استعمال پر پورا اختیار حاصل ہو سکے یا یوں کہو کہ بعض طبی جذبات کو استعمال میں لانے اور بعض کو دبا لینے کو اخلاق نہیں کہاجاسکتا بلکہ مناسب موقع پر تمام طبعی جذبات کا اراد تاً او ر قصداً استعمال اور نامناسب موقع پر ان کا دبالینا اصل میں اخلاق ہیں۔دوسرا اصل جو آپ نے کسی مذہب کی اخلاقی تعلیم کے متعلق رکھا ہے یہ ہے کہ ہر ایک اخلاقی قوت کے استعمال کے لئے مناسب موقع بتادینے کے علاوہ مذہب کو بُرے اور اچھے اخلاق کے مختلف مدارج کی تشریح کرنی ہے جو کہ ہر طبعی جذبہ کے مناسب یا غیر مناسب استعمال کا نتیجہ ہو سکتے ہیں کیونکہ اگر وہ ایسا کرنے کو چھوڑتا ہے تو بہت سے لوگ گمراہ ہو جائیں گے یا وہ ایسے رستوں پر گامزن ہونگے جو انہیں کبھی بھی مقصد کی طرف نہیں لے جا سکتے۔ان کی مثال اس طالب علم کی سی ہوگی جو اس خواہش ہے کہ انگریزی زبان آجائے آکسفورڈ ڈکشنری کو حفظ کرنے لگ جائے۔تیسرا اصل جو آپ نے رکھایہ تھا کہ مذہب کو ان وجوہ کی تشریح کرنی چاہئے جن پر اس کے احکامِ اخلاق کی بناء ہے کیونکہ بغیر ان کے سمجھنے کے ایک شخص اس ذوق کو اپنے اندر محسوس نہیں کرے گا جو اعلی ٰاخلاقی حالت کے حصول کے لئے اس کو ضروری کو شش قائم رکھنے میں درکارہے۔چوتھی بات جو آپ نے قائم کی ہی تھی کہ مذہب کے لئے نیکی اور بدی کے منبع کا علم دینا ضروری ہے اور لوگوں کو یہ سکھانا چاہئے کہ بدی کی طرف میلان کی راہوں کو کیسے بند کردیا جائے؟ اور کس طرح نیکی کی راہوں کو کھولا جائے کیونکہ بدی نہیں نابود ہو سکتی جب تک کہ بدی کے میلان کو نابود نہ کیا جائے۔اور اس وقت تک کہ مذہب اپنی اخلاقی تعلیم کے پہلو کے متعلق تفصیل بیان نہیں کرتا ،نا مکمل رہے گا۔محض قواعد کا مجملاً بیان کچھ امداد نہیں دے سکتا جب تک کہ ان کا عملی استعمال نہ بیان کیا جائے۔مسیح موعود نے اخلاقی تعلیم کے متعلق یہ قواعد نہ صرف قائم کردیئے ہیں بلکہ آپ نے تفصیل سے ثابت کردیا کہ قرآن کریم انسان کی اخلاقی نشوونما کی ان تمام صورتوں کی تو ضیح کرتا ہے اور اس طرح یہ ثابت کیا کہ اسلام ہی صرف انسان کا صحیح اخلاقی رہنماہے۔