انوارالعلوم (جلد 8) — Page 402
انوار العلوم جلد ۸ ۴۰۲ دورہ یورپ اخلاقی تعلیم کوئی مذہب کامل ہونے کا مدعی نہیں ہو سکتا جب تک کہ انسانی اخلاق کے متعلق وہ اپنے اندر مفصل ہدایات نہ رکھے اس لئے کہ اگر چہ اخلاق روحانیت کا حصہ نہیں تاہم روحانیت کا وہ پہلا قدم ہیں اور کامل اخلاق کے بغیر انسان کامل روحانی ترقی حاصل نہیں کر سکتا مسیح موعود نے اخلاق کے متعلق حیرت انگیز اصل قائم کئے ہیں اور ان اصولوں کے مطالعہ سے ایک انسان چونک کر یہ ماننے کے لئے تیار ہو جاتا ہے کہ مسیح موعود سے پہلے دنیا اخلاقی قوانین کی تلاش میں محض تاریکی میں بھٹکی پھرتی تھی۔ پہلا اصل اخلاق کی تعریف سے متعلق ہے آپ پہلے شخص تھے جنہوں نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ اخلاقی اوصاف کی حقیقت میں ایک غلطی کی گئی ہے جو انسان کو ایک خطرناک غلط فہمی کی طرف لے گئی ہے اور جو مذہبی کتب میں طویل لیکن بے سود بحثوں کی موجب ہے۔ لوگ اس بات کو نہیں سمجھ سکتے رہے کہ حیوانیت اور اخلاق کے درمیان ایک وسطی حالت بھی ہے۔ حیوانیت انسان کی اس حالت کا نام ہے جس میں وہ بوجہ ناقص تربیت، مرض، عادت لا علمی یا بد مزاجی کے خالص نفسانی خواہشات کے ماتحت خالص ذاتی اغراض کے لئے عمل پیرا ہوتا ہے اور دوسروں کے احساسات کا اسے کچھ خیال نہیں ہوتا لیکن یہ انسان کی طبعی حالت نہیں کیونکہ انسان کو بہت سے طبعی احساسات بخشے گئے ہیں جو اسے دوسروں کے ساتھ نیکی کرنے کی تحریک کرتے ہیں اور جن کو لوگ غلطی سے اعلیٰ اخلاق خیال کرتے ہیں۔ مثلاً دوسرے لوگوں کو مصیبت میں پاکر ایک شخص طبعاً درد محسوس کرتا ہے اور ہمدردانہ سلوک کی طرف مائل ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انسان کو متمدن پیدا کیا گیا ہے اور یہ جذبات ایک سوسائٹی کے جزو کے لئے ضروریات میں سے ہیں۔ محبت اور نفرت ہر دو یکساں طبعی احساسات ہیں اور اس لئے ان میں سے کسی کو بھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ اچھا ہے اور یہ بُرا۔ کیونکہ اگر اس میں سے ایک کو اچھا کہیں اور دوسرے کو برا تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ خدا نے بدا انے بدی ہماری فطرت ی فطرت میں جبلی طور پر رکھدی ہے۔ علاوہ بریں ہمارا تجربہ اس قاعدہ کی تردید کرتا ہے کیونکہ بعض چیزوں مثلاً ظلم یا بدکاری کے خلاف جذبات نفرت ایک بڑی قابل تعریف بات ہے لیکن اگر ہر ایک جذبہ نفرت کو بدی تصور کر لیا جائے تو بدی سے نفرت کرنا بجائے خود ایک گناہ ہو جائے گا اور یہ صریح بیہودگی ہے۔ اس لئے مسیح موعود نے بیان کیا کہ مذہب کا پیروؤں کو صرف مہربانی کرنے یا در گزر کرنے یا محبت کرنے یا احسان کرنے یا فضول خرچی سے پر ہیز کرنے کی ترغیب دینا تو ہمارے طبعی جذبات کو محض گن دینا ہے اور یہ کسی