انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 396

انوار العلوم جلد ۸ ۳۹۶ دورہ یورپ رکھتے ہیں اور وہ کسی کے ساتھ سوتیلے باپ والا سلوک نہیں کرتا۔ بڑے سے بڑے نبی اور مصلح بھی بلحاظ رشتہ الہی بنی آدم میں سے کسی سے زیادہ نہیں اور کامیابی کے دروازے جو ان کے لئے کُھلے تمام انسانوں کے لئے کھلے ہیں۔ تمام انبیاء راہبر کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن ان میں سے ایک بھی خدا اور اس کی مخلوق کے در میان بحیثیت توسط کے نہیں کیونکہ خدا کو انبیاء کی بہبودی اور ان کی جن کی طرف وہ بھیجے جاتے ہیں یکساں محبوب ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص بوجہ اپنے اخلاص اور نیکی کے دوسروں سے خدا کا زیادہ قرب حاصل کرلے لیکن وہ کتنا بھی قریب ہو جائے یا کتنا بھی امتیاز حاصل کرلے وہ دوسرے کے لئے ترقی کے دروازے بند نہیں کر سکتا۔ ہر فرد بشر کے لئے ہر وقت روحانی ترقی کے بلند ترین مقام تک پہنچنے کے لئے راہ کھلی ہے آسمان کے دروازے ہر شخص کے لئے جو کھٹکھٹاتا ہے کھلے ہیں۔ ازاں بعد آپ نے وہ غلط خیال دور کیا جو تمام لوگوں میں عام ہو چکا تھا کہ خدا کے فضل اور رحم کا انکشاف صرف گزشتہ زمانوں سے ہی وابستہ تھا اور اب اس کی عنایات کے دروازے لوگوں پر مسدود ہیں۔ آپ نے بتایا کہ ایسا خیال گناہ اور گستاخی کے مترادف ہے کہ خدا کی صفات میں سے کوئی صفت کسی زمانہ میں معطل بھی ہو جاتی ہے۔ ایک زندہ مشین کو زندگی کی علامات ظاہر کرنی چاہئیں جیسا کہ ایک مخلوق وجود کی یہ علامت ہے کہ وہ اپنے سسٹم کے اندر ہمیشہ زندگی بخش مواد جذب کرتا رہتا ہے ایسے ہی یہ ایک زندہ خالق کی نشانی ہے کہ وہ اپنی مخلوقات پر اپنی زندگی بخش صفات کا پر تو ڈالتا ر ہے۔ اگر کوئی زندہ خدا موجود ہے تو ضروری ہے کہ ہم اس کی صفات کا تیز اثر دنیا میں لگا تار مشاہدہ کر سکیں۔ ایک خطرناک غلطی جو مسیح موعود کی بعثت کے وقت دنیا میں موجود تھی اور جس نے تمام مذاہب کی بنیادوں کو ایسے کھا لیا کہ مذہب کا مغز ہی بکلی محرف ہونے لگا اور جس کا یہ نتیجہ ہوا که انسانی دماغ کے خیالات اور دہموں کو وحی الہی کی روشنی خیال کیا جانے لگا یہ وحی کی ایک بالکل نادرست تعریف کی گئی تھی جس کو عام لوگ ماننے لگ گئے ۔ مسیح موعود نے اپنے ذاتی تجربہ کی بناء پر بتایا کہ وحی صاف الفاظ میں بھیجی جاتی ہے اور اس کے بھیجنے کا طریق ایسا یقینی اور بلا شبہ ہے جیسے کہ ایک آدمی کا دوسرے سے کلام کرنا۔ آپ نے بتایا کہ جب تک وحی الفاظ میں نہ بھیجی جائے وہ شک سے پاک نہیں ہو سکتی اور وہ کامل یقین تک