انوارالعلوم (جلد 8) — Page 395
۳۹۵ دوره یورپ اصل کو مان لینا انسان کی زندگی پر کوئی گہرا اثر نہیں ڈال سکتا۔غرض یہ تھی کہ انسان اس طرح مسئلہ توحید الہٰی کے ماتحت اپنی زندگی کو مرتب کرے کہ وہ اسے اخلاقی اور روحانی تکمیل تک پہنچائے۔یا یوں کہو کہ وہ کسی چیز یا ہستی کے ساتھ اس محبت سے بڑھ کر محبت نہ رکھے جو وہ خدا سے رکھتا ہے اور وہ کامل بھروسہ اور کامل اعتماد خدا پر رکھے اور اس کے ماسوا کسی چیز یا ہستی کو اپنے معاملات پر کسی قسم کا مختار نہ خیال کرے۔ایسا شخص جو وحدت خدا پر ان معنوں سے اعتقادرکھتا ہے اور اس پر کاربند ہوتا ہے لاَ جَرَم ایک اخلاقی تغیر کو اپنے اندر دیکھے گا۔وہ کبھی کسی اور چیز یا انسان کی محبت کو اس محبت پر ترجیح نہیں دے گا جو وہ خدا سے رکھتا ہے اور اس سے زیادہ وہ اور کسی شئے سے نفرت نہیں کرے گا جتنی کہ خدا سے دور ہو جانے کے خیال سے۔ایسے انسان کے لئے گناہ کا ارتکاب غیر ممکن ہو جاتا ہے اور یہی وہ سچا مسئلہ توحید الہٰی ہے جو مذہب کی تعلیم کا اصل مقصد ہے نہ کہ خدا کی ہستی پر محض زبانی اقرا ر جو نہ تو خدا کو راضی کر سکتا ہے اور نہ ہی انسان کی زندگی پر کوئی عملی اثر ظاہر کر سکتا ہے۔اس بنیادی اصل کو قائم کر دینے کے بعد مسیح موعود نے شرک کی تمام ان اقسام کو جڑ سے اُکھاڑ کر مٹا دیا جو مذہب میں داخل ہو گئی تھیں۔مسئلہ توحید الہٰی کے بعد وہ سوال جو سب سے زیادہ انسانی زندگی پر اثر رکھتا ہے وہ بندے اور اس کے بنانے والے کے درمیان کے رشتہ سے متعلق ہے میں اپنے بنانے والے کے سامنے کیا ہوں اور اس کی میرے ساتھ اس ذاتی محبت کی کیا غرض ہے جو اس نے میری پیدائش کے لمحے سے میرے ساتھ رکھی ہوئی ہے یہ سوال ہیں جو انسان کی زندگی کے ہر شعبہ پر گہرا اثر ڈالتے ہیں ان سوالات کا صحیح فہم انسان کے لئے نیکی کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان سوالات کے متعلق غلطی اس کے لئے ترقی کے دروازے بند کردیتی ہے۔ان سوالات کے متعلق مسیح موعودنے دیکھا کہ بنی آدم غلط رستے پر چل رہے ہیں اور آپ نے ان سوالات کا میں مفہوم بتا کربنی نوع انسان کو بے حد ممنون احسان کردیا ہے۔آپ نے بتایا کہ انسانی پیدائش کی غرض لا محدود ترقی کرنا ہے اور اسی لئے یہ امرغير ممکن الفہم ہے کہ خدا نے خودہی اس غرض کو باطل کردیا ہو جس کے لئے انسان کو پیدا کیا تھا۔انسان زنجیروں سے بندھا ہوا پیدا نہیں ہوا کہ وہ ان کو توڑ نہیں سکتا بلکہ خدا اس پر کبھی بھی ترقی کی راہیں بند نہیں کرتا۔یہ خود انسان ہی ہے جو خود اپنے فعل سے ایسا کرلیتا ہے نہیں بلکہ انسان اس طرح اپنے آپ پر دروازے بند کرلیتا ہے تو خدا ایسے سامان کرتا ہے کہ وہ اس کے لئے پھر کھول دیئے جائیں۔پھر آپ نے بتایا کہ تمام انسان خدا سے یکساں رشتے