انوارالعلوم (جلد 8) — Page 392
۳۹۲ دوره یورپ انبیاء علیهم السلام کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔آج کون ہمیں وہ نشانات اور معجزات دکھاسکتا ہے جو لوگ انبیاء علیھم السلام اور ان کے صحابہ کے ہاتھوں پر دیکھا کرتے تھے۔ہم ہر ایک مذہب کی کتابوں میں لکھا ہوا تو بہت کچھ پاتے ہیں لیکن اس کا علم ہم کو کہاں سے ملے۔وہ غیب گوئی کا انعام کہاں ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے پیروؤں کو حاصل تھا۔وہ نشان کہاں ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کے حواری دکھایا کرتے تھے۔ہر ایک مذہب کی کتاہیں زنده خد اکا تذکرہ کرتی ہیں لیکن کیا وہ زنده خداآج بھی زندہ ہے کیا وہ آج بھی اپنے چاکروں سے وہی تعلقات رکھتا ہے جو یہودا (یہوا) موسیٰ کے پیروؤں کے ساتھ رکھا کرتا تھا۔یا جو آسمانی باپ اپنے حواریوں سے رکھتا تھا ،یا جو یزدان زرتشتیوں سے، یا اللہ مسلمانوں سے رکھا کرتا تھا۔اگر نہیں تو اس تبدیلی کی طرف کوئی وجہ منسوب کی جائے ؟ اور کیا یہ تبدیلی خدامیں ہوئی ہے یا انسان میں ؟ہم دیکھتے ہیں کہ اس غرض سے کہ اس سوال کے حل سے اعراض کیا جائے اور یہ قبول کرتے ہوئے کہ یہ تبدیلی واقع ہوئی ضرور ہے مختلف مذاہب کی الہامی کتب کی عبارات کو ترمیم کرنے کی خواہش کی گئی ہے اور عبارات کی طرف ایسے معانی منسوب کئے گئے ہیں جن کے الفاظِ عبارت متحمل نہیں۔لیکن ہم ان حداقتوں کا کیسے انکار کر سکتے ہیں جو متفق طور پر تمام مذاہب صد ہا برسوں سے مانتے چلے آئے ہیں۔اگر خدا اپنے خادموں سے پہلے وقتوں میں ہم کلام ہوا کرتا تھا تو آج وہ ان سے کیوں نہیں بولتا۔اگر یہ اس کی عادت تھی کہ وہ تکلیف ,شک یا غلطی کے وقت اپنی ہدایت بھیجا کرتا تھا تو وہ آج لوگوں کے لئے راہنمائی کا دروازہ کیوں نہیں کھولتا کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ تمام مذاہب باطل ہو گئے اور اب ان میں کوئی صداقت باقی نہیں مل سکتی کہ ان میں سے کسی پر عمل کر کے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو سکتا یا یہ ممکن ہے کہ سچامذہب تو دنیا میں موجود ہے لیکن لوگ اس پر عمل نہیں کرتے اور اس لئے وہ روحانیت میں کوئی ترقی نہیں کر سکتے۔ان میں سے کوئی بھی خیال ہم قبول کریں یہ سوال اٹھے گا کہ کیوں خدا ایک نیامذ ہب الہام نہیں کر دیتا؟ اگر اس کے نزدیک ضرورت ہے کیوں وہ ایک مصلح نہیں مبعوث کردیا جو لوگوں کو صحیح راستے کی طرف لے جائے تاکہ اس کا قرب حاصل کریں اور اپنی پیدائش کی غرض کو پورا کریں۔یہ بات ناقابل قبول ہے کہ بنی نوع انسان کو گناہ اور دنیاپرستی کی طرف دوڑتے ہوئے دیکھ کر وہ رحیم و مشفق خد ابے پر واہ ر ہے اور ان کی راہنمائی اور ہدایت کے لئے کوئی انتظام نہ کرے۔