انوارالعلوم (جلد 8) — Page 391
انوار العلوم جلد ۸ ۳۹۱ دورہ یورپ بتائیں تو ایسے نزول کا در حقیقت یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس نبی کا مثیل نہیں۔ پس اسی طرح مسیح کی دوبارہ آمد کی تاویل کرنی پڑے گی۔ یہ تعبیر صرف اس نتیجہ پر مبنی نہیں ہے جو ایک خاص مثال لے کر نکالا گیا بلکہ اس کو ثابت کرنے کے لئے یہ صریح شہادت بھی ہے کہ عیسی علیہ السلام اپنی آمد ثانی سے ہمیشہ اپنے سوا کسی اور نبی کی آمد مراد لیتے رہے۔ آپ فرماتے ہیں۔ اب سے تم مجھے پھر نہ دیکھو گے جب تک کہ کہو گے مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے ۔ یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ صرف وہی لوگ مسیح کو دوبارہ دیکھ سکیں گے جو یہ اعتقاد رکھیں کہ آنے والا اس کے نام پر ظاہر ہو گا لیکن جو اس عقیدہ سے وابستہ ہیں کہ وہی عیسی دوبارہ آنا چاہئے وہ انتظار ہی کرتے چلے جائیں گے اور ان کا انتظار بے سود ہو گا۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ آیا مسیح کے نزولِ ثانی کے متعلق جو کچھ بھی لکھا گیا تھا احمد علیہ السلام کے زمانے اور آپ کے ہاتھوں پر پورا ہوا۔ یہ کہا گیا تھا کہ جنگیں ہوں گی۔ چنانچہ جنگیں کثرت سے ہوئیں اور ایسے پیمانے پر ہوئیں کہ پہلے کبھی نہ ہوئی تھیں خصوصاً آخری جنگ عظیم۔ کہا گیا تھا کہ وبائیں پھیلیں گی اور باوجود دنیا کی عظیم الشان ترقی کے جو اس نے علم حفظ صحت میں کی انفلوئنزا اور طاعون نے بے مثال تباہیاں برپا کیں۔ کہا گیا تھا کہ زلزلے آئیں گے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس صدی کے دوران میں جو زلزلوں کی کثرت اور شدت مشاہدہ کی گئی ہے اس سے دو چند زمانہ میں بھی پہلے نہ دیکھی گئی تھی۔ کہا گیا تھا کہ قحط پڑیں گے اور باوجود ذرائع ارسال و ترسیل کے اس قدر ترقی یافتہ ہونے کے زمین کے بعض حصوں کو شدید ترین قحط دیکھنے پڑے۔ پھر پیشگوئیوں کے مطابق آسمان کے اختیارات کمزور کئے گئے گویا روحانی حکومت اپنی انتہاء پر ہے اور لوگوں نے روحانی امور کے متعلق پروا کرنا بالکل ترک کر دیا ۔ تمام یہ پیشگوئیاں جنہوں نے مسیح کی بعثت کی خبر دی صاف بتا رہی ہیں کہ موجودہ زمانہ ہی ہے جس میں مسیح کو ظاہر ہونا چاہئے۔ متذکرہ بالا پیشگوئیوں کے زمانے کی شہادت کہ یہی وقت ہے صحیح کے ظہور کا علاوہ دنیاکی حالت خود ایک نبی کے نزول کا تقاضا کر رہی ہے کیونکہ آج ہم اس روشنی اور اس ایمان کو کہاں دیکھ سکتے ہیں جس کا :