انوارالعلوم (جلد 8) — Page 386
۳۸۶ دوره یورپ جس کے متعلق ہم دیانت داری سے یقین کر سکیں کہ یہ ہماری غرض کو پورا کردے گا اور جو فرض ہم پر ہے وہ اس سے ادا ہو جائے گا۔باقی رہا اللہ کا فضل سووہ اس کے اختیار میں ہے اور جب ہم اپنا کام کر چکیں تو ہمیں امید کرنی چاہئے کہ وہ فضل بھی نازل ہو گا کیونکہ یہ کام اسی کا ہے نہ ہمارا۔اس نظام کے مقرر کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ خلیفہ وقت مغربی ممالک کی حالت کو وہاں جا کر دیکھے کیونکہ اس وقت سب سے زیادہ مقابلہ مغربی خیالات سے ہے اسلام اپنی دلیلوں میں سب مذاہب پر غالب ہے لیکن مغرب کی عادتوں اور اس کے تمدن نے ایک ایسی شکل اختیار کرلی ہے کہ وہ اسلام سے اس قدر مختلف ہے جس قدر کہ دن رات سے مختلف ہے وہ دونوں ایک جگہ بالکل جمع نہیں ہو سکتے۔یورپ اسلام کے عقائد کو تسلیم کرنے کے لئے تو آج تیارہے لیکن وہ اپنی عادتوں کو چھوڑنے کے لئے بالکل تیار نہیں۔اور نہ صرف یہ کہ وہ خود اس کام کے لئے تیار نہیں بلکہ وہ ایشیا اور افریقہ کو بھی اپنا ہم خیال بنا کر اسلام کو دنیا سے بالکل خارج کرنا چاہتا ہے۔ان لوگوں کی طرز اور ان کی رہائش ہم سے ایک جُداگانہ ہے کہ گھر بیٹھے ان کے متعلق فیصلہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ زمین پر بیٹھے چاند کے حالات پر رائے زنی کی جائے بلکہ اس سے زیادہ مشکل۔کیونکہ چاند کے حالات تو دُور بین سے نظر آسکتے ہیں مگر یہاں ایک زندہ قوم کی اصلاح کا سوال ہے جس کی ظاہری شکلوں پر نہیں بلکہ اس کے دلی خیالات اور تعصّبات کے متعلق ہم نے فیصلہ کرنا ہے۔مغرب کی تبلیغ پر خرچ ہم اس وقت تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد روپیہ مغرب کی تبلیغ پر خرچ کر چکے ہیں اور پندرہ سولہ ہزار روپیہ ہرسال خرچ کرتے ہیں جو کچھ اس کثیر خرچ کا نتیجہ اس وقت تک نکلا ہے اس کی نسبت ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وہ کچھ بھی نہیں کیونکہ ملکوں کی اصلاح دیر سے ہوتی ہے مگر ہم دیانت داری سے یہ بھی تو نہیں کہہ سکتے کہ اس تحریک کا آخروہی نتیجہ نکلے گا جو ہم چاہتے ہیں۔اور کم سے کم ایک کام کے متعلق ہم کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ ہم صحیح راستہ پر چل رہے ہیں اور اس کا آخری نتیجہ ضرور اچھا ہی نکلے گا الأماشاء الله مگربوجہ اس کے کہ خلیفہ وقت نے جو آخری کڑی ہے اس کام کو خود دیکھ کر اس سکیم کو تجویز نہیں کیا جس پر مغرب میں عمل ہونا چاہئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہم نے ایک یقینی فیصلہ کر لیا ہے۔پس مغربی ممالک میں تبلیغ کے کام کو اگر ہم نے جاری رکھنا ہے اور اگر اس پر جو روپیہ خرچ ہوتا ہے اس کی خدا تعالی کو جواب دہی سے عہدہ برآ ہونا ہے تو ضروری ہے کہ خود خلیفہ وقت ان