انوارالعلوم (جلد 8) — Page 385
۳۸۵ دوره یورپ اونچاہو کر دیکھتا ہے اسی طرح میری حالت ہے اور جسم میں عجیب چُستی اور سُبکی پاتاہوں جس طرح کہ غیر معمولی کامیابی کے وقت ہوا کرتا ہے اور چاروں طرف نگاہ ڈالتا ہوں کہ کیا کوئی جگہ ایسی ہے جس طرف بھی توجہ کرنی چاہیے کہ اتنے میں ایک آواز آئی جو ایک ایسے شخص کے منہ سے نکل رہی ہے جو مجھے نظر نہیں آتامگر میں اسے پاس ہی کھڑا ہوا سمجھتا ہوں اور یہ بھی خیال کرتا ہوں کہ یہ میری روح ہے۔گویا میں اور وہ ایک ہی وجود ہیں اور وہ آواز کہتی ہے ”ولیم دی کنکرر‘‘ یعنی ولیم فاتح - ولیم ایک پرانا بادشاہ ہے جس نے انگلستان کوفتح کیا اس امر کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔جب میں نے دوستوں کو یہ خواب سنائی تو مفتی صاحب نے ولیم کے معنے لغت انگریزی سے دیکھے اور معلوم ہوا کہ اس کے معنے ہیں پختہ رائے والا پکے ارادہ والا یا دوسرے لفظوں میں أولوا العزم پس گویا ترجمہ یہ ہوا أولوا العزم فاتح۔ان خوابوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغربی ممالک کے لئے ایک نیک ارادہ مقدر ہے اور یہ کہ غالباًٍوه کسی میرے سفر کے ساتھ وابستہ ہے۔غالبا ًاس لئے کہ بعض دفعہ خواب میں جس شخص کو دیکھا جائے اس کے قائم مقام مراد ہوتے ہیں۔مگر باوجود ان خوابوں کے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ نتائج اس سفر کے معا ًساتھ وابستہ ہیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ بیج سَفر میں بو یا جائے نتیجہ بعد میں نکلے۔فیصلہ کی بناء ظاہری حالات ہیں خلاصہ یہ کہ گو ہم اللہ تعالیٰ کے فضل پر یقین کامل رکھتے ہیں مگر ہمیں کبھی خدا تعالی کی مشیّت پر حکومت کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے اور شرک سے پاک رہنا چاہئے۔کیونکہ یہ دونوں امور خدا تعالی کی غیرت کو بھڑکاتے ہیں۔ہمیں اپنے فیصلہ کی بنیاد تو ظاہری حالات پر رکھنی چاہئے پھر دعائیں کرنی چاہئیں کہ خدا تعالی کی مشیت اس فیصلے کو علاوہ اس ضرورت کے پورا کرنے کے جس کی وجہ سے وہ کیا گیا ہے دوسری برکات کا موجب بھی بنائے۔اغراض سفر میرے نزدیک جن اغراض کے لئے اس سفر کی ضرورت ہے ان میں سے ایک تو حضرت مسیح موعودؑ کی رؤیاکو پورا کرنا ہے آپ کا اپنے آپ کو وہاں دیکھنا چاہتا ہے کہ آپ کا کوئی جانشین ان علاقوں میں جائے۔دوسرے یہ دینی ضرورت اس کی داعی ہے کہ ہماری جماعت کا کام ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کرنا ہے اور چونکہ ساری دنیا کو اسلام کے حلقہ میں لا ناہمارا فرض ہے اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے متعلق ہم ایک مکمل نظام تجویز کریں