انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 372

انوار العلوم جلد * تھے۔ ۳۷۲ یاد ایام جب الفضل نکلا ہے اُس وقت ایک شخص الفضل کی اشاعت کا ایک خاص معاون جس نے اس اخبار کی اشاعت میں شاید مجھے سے بھی بڑھ کر حصہ لیا وہ قاضی ظہور الدین صاحب اکمل ہیں۔ اصل میں سارے کام وہی کرتے تھے ۔ اگر ان کی مدد نہ ہوتی تو مجھ سے اس اخبار کا چلانا مشکل ہوتا۔ رات دن انہوں نے ایک کر دیا تھا۔ اس کی ترقی کا ان کو اس قدر خیال تھا۔ کہ کئی دن انہوں نے مجھ سے اس امر میں بحث پر خرچ کئے ۔ کہ اس کے ڈیکلریشن کے لئے مجھے منگل کو نہیں جانا چاہیے۔ کیونکہ یہ دن نامبارک ہوتا ہے ۔ مگر مجھے یہ ضد کہ برکت اور نحوست خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے ۔ مجھے منگل کو ہی جانا چاہیے۔ تا یہ وہم ٹوٹے ۔ میرا خیال ہے اس امر میں مجھے قاضی صاحب پر فتح ہوئی ۔ کیونکہ میں منگل کو ہی گیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ڈیکلریشن بھی مل گیا۔ جس کی نسبت قاضی صاحب کو یقین تھا کہ اگر میں منگل کو گیا تو کبھی نہیں ملے گا۔ اور اخبار بھی مبارک ہوا۔ بعد میں گو ایک مینیجر رکھ لیا گیا مگر شروع میں قاضی صاحب ہی مینجری کا بھی بیشتر کام کرتے تھے اور مضمون نویسی میں بھی میری مدد کرتے تھے۔ دو مددگار اور بھی تھے ایک صوفی غلام محمد صاحب اور ایک الفضل کے دوسرے مددگار ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر۔ صوفی صاحب اس وقت اردو اچھی نہیں لکھ سکتے تھے۔ اور میرا خیال ہے کہ میری ظالمانہ جرح و تعدیل سے ان کی زبان میں بہت کچھ اصلاح ہوئی ہے ۔ مگر زیادہ مدد قاضی صاحب کی ہی تھی ۔ کیونکہ اُس وقت میرے دوستوں میں سے جو شخص صحیح مشورہ اخبار کے متعلق دے سکتا تھا وہ قاضی اکمل صاحب ہی تھے ۔ آخر "الفضل“ نکلا۔ اور دشمن نے جب دیکھا۔ کہ خدا نے الفضل" کی مخالفت صداقت کے اظہار کے لئے بھی ایک دروازہ کھول دیا ہے۔ تو اس کی مخالفت اور بھی چمک اٹھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے جب پہلا نمبر ” الفضل " کا پڑھا تو فرمایا کہ پیغام " بھی میں نے پڑھا ہے۔ ” الفضل " بھی۔ مگر یہاں شتان بينهما- یعنی کجاوہ کجایہ - یہ تو ایک مبصر کی رائے تھی۔ مگر ہر شخص مُبَصّر نہیں ہوتا۔ چاروں طرف سے اس کی مخالفت کی آوازیں اٹھنی شروع ہوئیں۔ اور میں نے سمجھا کہ جماعت اس وقت "الفضل " کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ مگر میں اس امر کے لئے تیار تھا کہ " الفضل " کی مخالفت ہو گی اور یہی وجہ تھی کہ دو