انوارالعلوم (جلد 8) — Page 371
انوار العلوم جلد ۸ ۳۷۱ یاد ایام جیسا نکما وجو د بھی دنیا میں کوئی ہو گا جس نے خود تو کبھی کسی پر احسان نہیں کیا۔ مگھر چاروں طرف سے لوگوں کے احسانات کے نیچے دبا ہوا ہے ۔ کیا میں صرف احسانوں کا بوجھ اٹھانے کے لئے ہی دنیا میں پیدا ہوا تھا۔ خدا تعالی کے فضل با ملاتو وہ کہ اس پر احسن کرنے کا خیال تو کجا احسان کا بدلہ دینے کی امید بھی علامت جنون ہے ۔ والدہ ملیں تو وہ کہ پیدائش سے اس وقت تک ان کی طرف سے احسان ہی احسان ہیں۔ اور یہاں کسی بدلے کا خیال بھی ایک نہ پوری ہونے والی امیدوں کا سلسلہ - بیوی اللہ تعالی نے وہ دی کہ اس نے ہر تکلیف میں محبت اور دلجوئی سے کام لیا۔ اور بغیر اس کے کہ میں نے اسے آرام دیا ہو میرے لئے اس نے قربانی اور ایثار کا نمونہ دکھایا ۔ اب ایک جماعت کا امام بنایا تو ایسے لوگوں کو ماتحت بنا دیا جو اپنے ایثار اور اپنے اخلاص اور اپنی محبت کے اظہار سے ہمیشہ شرمندہ ہی کرتے رہتے ہیں۔ ان کی دینی قربانیاں میرے لئے قابل رشک اور ان کا مذہبی جوش میرے لئے لائقِ اقتداء ہے ۔ پھر میں کس مرض کی دوا دنیا میں پیدا کیا گیا ہوں ۔ اے کاش! میں بھی کسی کام کا ہوتا۔ اے کاش! میں بھی کسی کے احسان کا بدلہ احسان سے دے سکتا۔ تیسرے شخص جن کے دل میں اللہ تعالٰی حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی امداد نے تحریک کی وہ مکرمی خان محمد علی خان صاحب ہیں آپ نے کچھ روپیہ نقد اور کچھ زمین اس کام کیلئے دی۔ پس وہ بھی اس رو کے پیدا کرنے میں جو اللہ تعالی نے "الفضل" کے ذریعہ سے چلائی حصہ دار ہیں۔ اور السَّابِقُونَ الا ولوں میں سے ہونے کے سبب سے اس امر کے اہل ہیں کہ اللہ تعالی ان سے اس قسم کے کام لے اللہ تعالی ان کو ہر قسم کی مصائب سے محفوظ و مامون رکھ کر اپنے فضل کے دروازے ان کے لئے کھولے۔ الفضل " نام کس نے رکھا غرض جب اس طرح روپیہ کا انتظام ہو گیا۔ تو حضرت خلیفہ المسیح اول سے میں نے اخبار کی اجازت مانگی اور نام پوچھا۔ آپ نے اخبار کی ام اخبار کی اجازت دی ۔ اور نام " الفضل " رکھا چنانچہ اس مبارک از انسان کا رکھا ہوا نام " الفضل » فضل ہی ثابت ہوا۔ اسی زمانہ میں ”پیغام صلح" لاہور سے شائع ہوا۔ تجویز پہلے میری تھی مگر ”پیغام صلح» " الفضل " سے پہلے شائع ہوا۔ کیونکہ ان لوگوں کے پاس سامان بہت