انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 366

انوار العلوم جلد ۸ hhd یاد ایام اپنے جاموں میں پھولا نہیں سماتا تھا۔ میں نے اس وقت اللہ تعالی سے دعا کی اور ایک عرصہ تک کرتا رہا کہ خدایا! مجھے تیری ذات کے متعلق کبھی شک پیدا نہ ہو۔ اُس وقت میں گیارہ سال کا تھا آج میں پینتیس ۳۵ سال کا ہوں مگر آج بھی میں اس دعا کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ میں آج بھی یہی کہتا ہوں ۔ خدا یا تیری ذات کے متعلق مجھے کوئی شک پیدا نہ ہو ۔ ہاں اُس وقت میں بچہ تھا۔ اب مجھے زیادہ تجربہ ہے اب میں اس قدر زیادتی کرتا ہوں کہ خدایا مجھے تیری ذات کے متعلق حق الیقین پیدا ہو ۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ میں لکھ رہا تھا کہ حضرت حضرت مسیح موعود کا ایک مجتبہ مسیح موعود علیہ السلام کا ایک مجتہ میں نے مانگ لیا تھا۔ جب میرے میرے دل میں خیالات کی وہ موجیں پیدا ہونی شروع ہوئیں جن کا میں نے اوپر ذکر نے اوپر ذکر کیا ہے تو ایک دن صفحیٰ کے وقت یا اشراق کے وقت میں نے وضو کیا۔ اور وہ جبہ اس وجہ سے نہیں کہ خوبصورت ہے بلکہ اس وجہ سے کہ حضرت مسیح موعود کا ہے ، موعود کا ہے اور متبرک ہے۔ یہ پہلا ام میرے دل میں خدا تعالیٰ کے فرستادہ کے مقدس ہونے کا تھا۔ پہن لیا۔ احساس نے اس کو ٹھڑی کا جس میں میں نماز کے متعلق گیارہ سالہ زندگی میں عزم رہتا تھا دروازہ بند کر لیا۔ اور ایک کپڑا بچھا کر نماز پڑھنی شروع کی اور میں اس میں خوب رویا خوب رویا خوب رویا اور اقرار کیا کہ اب نماز کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ اس گیارہ سال کی عمر میں مجھ میں کیسا عزم تھا۔ اس اقرار کے بعد میں نے کبھی نماز نہیں چھوڑی۔ گو اس نماز کے بعد کئی سال بچپن کے زمانہ کے ابھی باقی تھے ۔ کاش! یہ عزم مجھ میں اب بھی ہوتا۔ میرا وہ عزم میرے آج کے ارادوں کو شرماتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم میں کیوں رویا۔ فلسفی کے گا اعصابی کمزوری کا نتیجہ تھا۔ مذہبی میں کیوں رویا کے گا تقوی کا جذبہ تھا۔ مگر میں جس سے یہ واقعہ گذرا کہتا ہوں مجھے معلوم نہیں میں کیوں رویا ۔ ہاں یہ یاد ہے کہ اُس وقت میں اس امر کا اقرار کرتا تھا کہ پھر کبھی نماز نہیں چھوڑوں گا۔ وہ رونا کیسا با برکت ہوا ۔ وہ افسردگی کیسی راحت بن گئی۔ جب اس کا خیال کرتا ہوں تو سمجھتا ہوں کہ وہ آنسو ہسٹیریا کے دورہ کا نتیجہ وہ آنسو کیا تھے؟ نہ تھے پھر وہ کیا تھے۔ تھے۔ میرا خیال ہے وہ شمس روحانی کی گرم کر دینے والی کرنوں کا گرایا ہوا پسینہ تھے ۔ وہ مسیح موعود کے کسی فقرہ یا کسی نظر کا نتیجہ ۔ اور اگر یہ نہیں تو میں