انوارالعلوم (جلد 8) — Page 365
انوار العلوم جلد ۸ ۳۶۵ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ یاد ایام یاد ایام الفضل کے بڑے سائز کے پہلے پرچہ کیلئے تحریر فرمودہ مضمون) ۱۹۱۳ء میں میری زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ جس طرح ۱۸۸۹ء زندگی کے دور ۱۸۹۸ء ۱۹۰۰ء ۱۹۰۶ء ۱۹۰۸ء اور بعد ۱۹۱۴ء میں میری زندگی کے نئے دور شروع ہوئے ۔ ۱۸۸۹ء میں پیدا ہوا۔ ۱۸۹۸ء میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ سن پیدائش و بیعت الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔ گو بوجہ احدیت کی پیدا لو احمدیت کی پیدائش کے میں پیدائش سے ہی احمدی تھا۔ مگر یہ بیعت گویا میرے احساس قلبی کے دریا کے اندر حرکت پیدا ہونے کی علامت تھی۔ ۱۹۰۰ء میرے قلب کو اسلامی احکام کی طرف توجہ دلانے کا ۱۹۰۰ء کا قابل یادگار سال موجب ہوا ہے اس وقت میں گیارہ سال کا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کوئی شخص چھینٹ کی قسم کے کپڑے کا ایک مجبہ لایا تھا۔ میں نے آپ سے وہ جبہ لے لیا تھا۔ کسی اور خیال سے نہیں بلکہ اس لئے کہ اس کا رنگ اور اس کے نقش مجھے پسند تھے۔ میں اسے پہن نہیں سکتا تھا کیونکہ اس کے دامن میرے پاؤں کے نیچے لٹکتے رہتے تھے۔ جب میں گیارہ سال کا ہوا اور ۱۹۰۰ء نے دنیا میں قدم رکھا تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں خدا تعالٰی پر کیوں ایمان لاتا ہوں۔ اس کے وجود کا کیا ثبوت ہے۔ میں دیر تک رات کے وقت اس مسئلہ پر سوچتا رہا آخر دس گیارہ بجے میرے دل نے فیصلہ کیا کہ ہاں ایک خدا ہے۔ وہ گھڑی میرے لئے کیسی خوشی کی گھڑی تھی۔ جس طرح ایک بچہ کو اس کی ماں مل جائے تو اسے خوشی ہوتی ہے اسی طرح مجھے خوشی تھی یہ میرا پیدا کرنے والا مجھ مل گیا۔ سماعی ایمان علمی ایمان سے تبدیل ہو گیا۔ میں