انوارالعلوم (جلد 8) — Page 349
انوارالعلوم جلد ۸ ۳۴۹ احمدیت یعنی حقیقی اسلام سمندروں کی ملکہ کہلاتا ہے مگر کیا تم نے کبھی اس بادشاہ کی طرف بھی توجہ کی جو سب عزتوں کا سرچشمہ ہے اور جس کی عنایت کی ایک نگاہ نے تم کو اس مرتبہ تک پہنچایا ہے۔ کیا تم نے کبھی معرفت کے سمندر کی بھی جستجو کی؟ جو ہر اس شخص کے دل میں لہریں مارتا ہے جو اس کی تلاش کرے آہ! تم شمال کی طرف گئے اور جنوب کی طرف گئے اور تم نے زمین پر ایک ایک چلو پانی کو چھان مارا اور سب گہرائیوں کو دریافت کیا مگر افسوس ! کہ ابھی تک معرفت کے سمندر کی تہہ معلوم کرنے کے لئے تم نے کبھی غوطہ نہیں مارا نہ اس کی دریافت کے لئے وفد بھیجے تم نے جزیروں کی تلاش میں اور خشکیوں کی جستجو میں زمین کا چپہ چپہ دیکھ مارا اور تمہارے بیڑوں نے ہر اک طرف کا رخ کیا مگر تم کبھی اس یار کی جستجو میں نہ نکلے جو ان سب زمینوں کا پیدا کرنے والا اور سب جزیروں کا بنانے والا ہے کیا یہ بھی دانش ہے کہ درخت سے گرے ہوئے بور کو تو جمع کیا جائے لیکن پھل کو چھوڑ دیا جائے ؟ اے بھائیو! میں تم کو بشارت دیتا ہوں کہ خدا کی رحمت آج اسی طرح جوش میں آئی ہوئی ہے جس طرح آج سے سینکڑوں سال پہلے وہ جوش میں آئی تھی جس طرح وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جوش میں آئی تھی، مسیح ناصری علیہ السلام کے وقت میں جوش میں آئی تھی، داؤد کے وقت میں جوش میں آئی تھی ، موسیٰ کے وقت میں جوش میں آئی تھی، اسحق کے وقت میں جوش میں آئی تھی ابراہیم کے وقت جوش میں آئی تھی ، نوح کے وقت میں جوش میں آئی تھی اور اس کی معرفت کا سورج اسی طرح آج بھی چڑھا ہے جس طرح کہ پہلے نبیوں کے زمانہ میں چڑھا کرتا تھا۔ پس باہر نکلو اور کمروں کی بند ہوا کی بجائے عالم روحانی کی وسیع فضاء میں خدا کی رحمت کی ٹھنڈی اور معطر ہوا سونگھو اور اس کی معرفت کے سورج کی خوشگوار روشنی اور چمک سے اپنی آنکھوں کو منور کرو کہ یہ دن روز روز نہیں چڑھا کرتے۔ میں تمہیں ہی نہیں بلکہ سب ان قوموں کو جو انگریزی حکومت کے جھنڈے کے نیچے آرام کی زندگی بسر کرتی ہیں کہتا ہوں کہ دیکھو خدا نے اپنی برکت کا ہاتھ تمہارے سروں پر رکھا ہے تم ادب کے گھٹنے اس کے سامنے جھکا دو۔ میں ویلز کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ اے ویلز ا تو اپنی محنت اور جانفشانی پر نگاہ کر اور دیکھ کہ تیری محنت میں سے سے کس قدر ر حصہ حصہ خدا کے لئے ہے ہے اور اسے سکاٹ لینڈ ! تو اپنی اپنی آزاد زندگی پرنی فخر