انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 348

۳۴۸ کیسی مبارک یہ منافقت ہے جس نے بیماروں کو چنگا کر دیا ہے اور مردے زندہ کر دیئے ہیں۔کاش یہ منافقت دنیا کے ہر گوشہ میں نظر آتی۔سلسلہ احمدیہ کا جو اثر اس کے افراد پر ہے اس کو اجمالی طور پر بیان کرنے کے بعد میں اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں اور تمام بھائیوں اور بہنوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں کہ :۔اے بھائیو اور بہنو!خدا نے ہمیں اس لئے پیدا کیا ہے تاہم اس کے جلال کے مظہر ہوں اور تا اس کی صفات کو اپنے اندر جذب کریں جب تک ہم اس مقصد کو پورا نہ کریں ہم ہرگز کامیاب نہیں کہلا سکتے۔ہماری دنیاوی ترقیات کیا ہیں؟ ایک مشغلہ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں۔یہ تمام ترقیات ہمارے کس کام کی اگر ہم خدا کو اپنے پر ناراض کر لیتے ہیں؟ اور ابدی ترقیات کے راستے اپنے اوپر بند کر لیتے ہیں۔اگر ہم دنیا کے سب سے بڑے موجد بھی ہیں لیکن اس علم کی طرف توجہ نہیں کرتے جس کے ذریعہ سے ہم ابدی زندگی میں نور حاصل کر سکیں تو ہماری مثال اس طالب علم کی ہے جو سارا دن کھیلتا رہتا ہے اور اس پر خوش ہو جاتا ہے کہ اس نے مقابلہ میں اپنے حریف کو پچھاڑ لیا لیکن وہ اس مقابلہ کی فکر نہیں کرتا تو اس کی ساری زندگی کو سدھارنے والا ہے۔زندگی وہی ہے جو نہ ختم ہونے والی ہو اور راحت و ہی ہے جو نہ مٹنے والی ہو اور علم وہی ہے جو ہمیشہ بڑھتارہے پس ابدی زندگی اور دائمی راحت اور حقیقی علم کی طرف توجہ کرو تادو نوں جہان کا آرام پاؤ اور اسی طرح خدا تعالی کو خوش کرو جس طرح کہ دنیا کے لوگوں کو خوش کرنا چاہتے ہو۔اے بھائیو اور بہنو! خدا تعالی نے تمهاری پریشان حالت کو دیکھ کر آپ تمہارے لئے رحمت کا دروازہ کھولا ہے اور خود تم کو بلانے کے لئے آیا ہے پس اس کے اس احسان اور اس کی محبت کی قدر کرو اور اس کی نعمتوں کو ردّ نہ کرو اور اس کے احسانوں کو حقیر سمجھ کر ان سے منہ نہ پھیرو کہ وہ خالق ہے اور مالک ہے اور اس کے آگے کسی تکبر کرنے والے کا تکبر نہیں چلتا۔بدھو اور اس کے فضل کے دروازے میں داخل ہو جاؤ اس کی رحمت تم کو اپنی آغوش میں لے لے اور اس کے فضل کی چادر تم کو اپنے اندر لپیٹ لے۔اے انگلستان کے رہنے والو! خدا نے تم کو دنیا میں عزت دی ہے مگر اس عزت کے ساتھ تمہاری ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ ہراک جو زیا دہ احسان سے نیچے ہوتا ہے زیاد ہ ذمہ وار ہوتا ہے۔خدا نے تم کو سینکڑوں سالوں سے سمندروں کی حکمرانی عطا کی ہوئی ہے۔تمہارا ملک