انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 340

۳۴۰ مسیح موعودؑ کی تعلیم کا اثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے بیان کر چکنے کے بعد میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اس تعلیم کا اثر آپ کی جماعت پر کیا ہوا ہے؟ یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خیالات ِموجو دہ کا آئینہ نہ تھے بلکہ زمانہ کی رَو اور اس کے میلان کے بالکل خلاف تعلیم لے کر آئے تھے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو اس زمانہ میں خیالات کی رَو دوجہات کی طرف مائل ہے۔ایک تو یہ ہے کہ خدا تعالی اور بندہ کے در میان کوئی گہرا تعلق نہیں ہونا چاہئے بلکہ انسان کو آزادی ملنی چاہئے۔چنانچہ تمام جدید مذاہب اور قدیم مذاہب اپنے آپ کو اس رَو کے مطابق بنا رہے ہیں اور عبادات کی حقیقت کو بدل کریا ان میں کمی کر کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دوسری رَواس زمانہ میں یہ چل رہی ہے کہ لوگ فیصلہ کر بیٹھے ہیں کہ تمدنی بنیاد جو پچھلے کئی سو سال میں دنیا میں قائم ہوئی ہے اس میں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے۔یہ اس لئے کہ وہ تمدن اعلیٰ اور اکمل ہے بلکہ اس لئے کہ لوگ اس کے عادی ہو چکے ہیں اور اب وہ اس کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔نئے اور پرانے سب مذاہب اپنی تعلیمات کو اس تمدن کے مطابق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ وہ اس کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، چنانچہ سود، پرده، کثرت ازدواج ایسے تمام امور کے متعلق تمام مذاہب اپنی پوزیشن کو صاف کرنے کی فکر میں ہیں اور اپنی تعلیم کو رائج الوقت تمدنی خیالات کے مطابق بنا رہے ہیں، مگر بر خلاف تمام لوگوں کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تعلیم کی بنیاد خالص مذہب پر رکھی ہے اور رائج الوقت خیالات پر ان کی بنیاد نہیں رکھی۔پس آپ حقیقی معنوں میں مصلح تھے نہ کہ زمانہ کے منہ میں نے کی مانند۔کہ جو کچھ وہ بجانا چاہتا تھا آپ نے اس کو بلند آواز سے کہہ دیا۔آپ نے زمانہ کی دونوں موجوں کا مقابلہ کیامذہبی آزادی کا بھی اور تمدنی غلامی کا بھی۔آپ نے نہ تو عبادات میں کمی کی نہ ان کو ا ڑ ایا بلکہ آپ نے اسلام کے قدیم حکم کی طرف دنیا کو توجہ دلائی اور عبادات کی حقیقت کو لوگوں پر ظاہر کیا اور ان کے دلوں میں عبادت کا سچاجوش پیدا کر کے خداتعالی سے ان کے تعلق کو مضبوط کیا۔نہ صرف فرض نمازوں کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی بلکہ نوافل پر کار بند ہونے کی بھی