انوارالعلوم (جلد 8) — Page 333
۳۳۳ فرماتا ہے وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ (البقرة: 166) کاش منکرین اس وقت کا نظارہ اپنے ذہنوں میں لا سکیں جب وہ عذاب کو دیکھیں گے۔یعنی ایسے نظرے ان کو دکھائے جائیں گے جن کی وجہ سے ان کو تکلیف معلوم ہو گی رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ سانپ اور بچھو اور اسی قسم کی اور چیزیں ان کو نظر آئیں گی۔قوت سامعہ کے عذاب کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے إِذَا رَأَتْهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا(الفرقان:13) جب وہ دوزخ کے سامنے آئیں گے تو اس کی تیز آواز اور چیخ سنیں گے یعنی اس کے شعلوں کی آواز نہایت ڈراؤنے طور پر نکلے گی جو خود ایک عذاب ہو گی۔چھونے کے عذاب کے متعلق فرماتا ہے لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ(الأَعراف:42) ان کو اس جگہ بستر اور اوڑھنے بھی عذاب کے ہی ملیں گے یعنی ان کی قوت لامسہ بھی عذاب پا رہی ہو گی۔اسی طرح فرماتا ہے وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا (الفرقان:14) جس وقت وہ جہنم میں ایک تنگ جگہ پر ڈالے جائیں گے جکڑ کر اس وقت ہلاکت کی دعا کریں گے۔گرمی اور سردی کے عذاب کے متعلق فرماتا ہے فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ(ص:58) اس عذاب کو چکھو گرمی اور سردی کا عذاب۔مسکولر سنس کے عذاب کے متعلق فرماتا ہے وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ () عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ (الغاشية:3-4) اس دن کچھ منہ ذلیل ہوں گے محنت کریں گے اور تھکیں گے نتیجہ کچھ نہ نکلے گا۔غرض کہ ساتوں حواس کے عذاب قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں۔اور اس سے مراد ان کے ساتوں روحانی حواس کے خراب ہو جانے سے ہے جس کے باعث وہ عذاب میں مبتلاء ہوں گے چونکہ انہوں نے اس دنیا میں خدا کی نعمت یعنی حواس کو برے طور پر استعمال کیا تھا اس کانتیجہ یہ ہو گا کہ روحانی زندگی میں ان کے حواس بالکل بیمار ہوں گے اور ہر چیز ان کے لئے عذاب بن جائے گی۔انہی حواس کو جن لوگوں نے نیک طور پر استعمال کیا گیا ہو گاان کےلئے وہ آرام کا موجب ہو جائیں گے۔کیونکہ صحیح استعمال سے چیز کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔چنانچہ نیکو کاروں کے جو انعام