انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 328

۳۲۸ چیزیں دئیے جائیں گے۔یعنی وہ چیزیں دنیا کی سی چیزیں نہیں ہوں گی مگر اپنی ظاہری شکلوں میں ان سے مشابہ ہوں گی۔اصل بات یہ ہے کہ روح گو جسم کی طرح جسمانی چیزوں کو استعمال نہیں کرتی لیکن جسم سے سرور سے حصہ ضرور لیتی ہے اور اسی طرح جسم کی تکالیف سے حصہ لیتی ہے۔پس چونکہ دنیاوی چیزوں سے وہ مانوس ہے اس کی خوشی اور اس کے رنج کو مکمل کو کرنے کے لئے وہاں کی چیزیں دنیاوی چیزوں کی شکل میں متمثل ہوں گی۔قرآن کریم نے ما بعد الموت کی روحانی حالتوں کے سمجھنے کے لئے ایک لطیف مثال دی ہے اس سے انسان اچھی طرح اس جہان کی کیفیت کو اس حد تک کہ اس دنیا کی قوتوں کے ساتھ سمجھ میں آ سکتی ہے سمجھ سکتا ہے۔فرماتا ہے اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (الزمر: 43) اللہ تعالیٰ روح قبض کرتا ہے لوگوں کی موت کے وقت اور جو نہیں مرتا اس کی نیند میں۔پس روک رکھتا ہے اس روح کو جس پر موت کا فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے اور واپس کر دیتا ہے دوسری کو ایک مدت مقررہ تک کے لئے۔اس میں بہت سے نشانات ہیں اس قوم کے لئے جو فکر کرتی ہیں۔یعنی خواب کی حالت میں بھی روح کا تعلق جسم سے عارضی طور پر الگ ہوتا ہے اور اس پر انسان ما بعد الموت کا قیاس کر سکتا ہے چونکہ یہ علیحدگی عارضی ہوتی ہے اس لئے دماغ کے ساتھ اس کا تعلق قائم رہتا ہے اور اس وجہ سے انسان ان کیفیتوں کو یاد رکھ سکتا ہے جو روح کو جسم سے علیحدگی کے وقت پیش آتی ہیں۔اللہ تعالیٰٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ فکر کرنے والے ہیں ان کے لئے اس میں بہت بڑے فوائد ہیں۔یعنی وہ اس کے ذریعہ سے روح کی کیفیت اور ان کے اعمال اور ما بعد الموت کے حالات کو سمجھ سکتے ہیں۔اب خواب کی حالت پر غور کر کے دیکھو۔اس میں گو جسم آرام سے سویا ہوا ہوتا ہے مگر انسان اپنے آپ کو دوسری شکلوں میں دیکھتا ہے اور مختلف جگہوں کی سیر کر لیتا ہے اور جن چیزوں کو دیکھتا ہے وہ جسم رکھتی ہیں مگر ان کا جسم ویسا نہیں ہوت جس قسم کا کہ ان مادی چیزوں کا۔ہاں کبھی کبھی وہ جسم ایسا کامل ہو جاتا ہے کہ اس کے آثار جسم پر بھی نمودار ہو جاتے ہیں اور جو صاحب تجربہ ہیں وہ اسے جانتے ہیں۔میں نے خود اس کا کئی بار مشاہدہ کیا ہے چنانچہ ایک دفعہ میں روزے میں تھا اور مجھے پیاس کی سخت تکلیف تھی جب وہ تکلیف حد سے بڑھ گئی تو میں نے دعا کی اور میں