انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 327

۳۲۷ مطابق ایک جسم نہ رکھے۔ہر اک روح ایک جسم کی محتاج ہے۔ادنیٰ روح کثیف جسم کی اور اعلیٰ روح لطیف جسم کی۔پس چونکہ ارواح وہاں بھی ایک جسم رکھیں گی یہ بات ضروری ہے کہ ان کے سامنے چیزیں اسی طرح محسوسات خارجیہ کے ذریعہ سے پیش ہوں جس طرح کہ اس دنیا میں پیش ہوتی ہیں مگر چونکہ وہ جسم روحانی ہوں گے اور اس قسم کے نہیں ہوں گے اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ متمثلات بھی اس دنیا کی چیزوں کے مقابلہ میں روحانی ہوں۔لیکن جس طرح اس دنیا میں علاوہ جسمای کیفیتوں کے ایک روحانی کیفیات بھی ہوتی ہیں اسی طرح اس دنیا کی اس اعلیٰ اور نئی پیدا شدہ روح کے لئے اس دنیا کی روحانی حالتوں سے اعلیٰ روحانی حالتیں ہوں گی۔ثواب کی بھی اور عذاب کی بھی۔پس اگلے جہان کی نعمتیں بھی اور عذاب بھی جسمانی اور روحانی ہوں گے۔اسی طرح جس طرح اس دنیا میں سکھ اور سکھ کی حالت جسمانی اور روحانی دونوں طرح کی ہوتی ہے لیکن اس دنیا کی حالتیں اس دنیا کی حالتوں سے اعلیٰ ہوں گی۔وہاں کی جسمانی حالت یہاں کی روحانی حالت کے مشابہ ہو گی اور روحانی حالت بہت ہی ارفع اور اعلیٰ ہو گی۔قرآن کریم بے شک ما بعد الموت حالات کے متعلق سزا کے لئے آگ اور سردی اور طوقوں وغیرہ کا ذکر کرتا ہے اور انعام کے طور پر سایوں اور پانیوں اور دودھ اور شہد کا ذکر کرتا ہے مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی فرماتا ہے فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (السجدة:18) یعنی کوئی نفس نہیں جان سکتا کہ اس کے لئے بسبب اس کے اعمال کے کس قسم کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان مہیا کیا گیا ہے؟ اسی طرح حدیث میں ہے کہ جنت کی نعمتیں ایسی ہیں کہ لا عین رأت ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر نہ آنکھوں نے دیکھیں نہ کانوں نے سنیں اور نہ انسان کا ذہن ان کا اندازہ کر سکتا ہے۔اب اگر وہاں اسی دنیا کی نعمتیں ہوں گی تو گو وہ کیسی ہی اعلیٰ ہوں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انسان ان کا اندازہ نہیں کر سکتا۔پس یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ وہ نعمتیں بالکل ہی اور قسم کی ہیں اور اسی طرح وہاں کے عذاب بھی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے کہ جنتیوں کے سامنے جب جنت کے میوے رکھے جائیں گے تو وہ کہیں گے هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ (البقرة:26) یہ تو وہ نعمت ہے جو ہمیں پہلے دی گئی تھی۔اللہ تعالیٰ اس قول کے متعلق فرماتا ہے وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا (البقرة:26) وہ ملتی جلتی