انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxvi of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page xxxvi

۲۹ کارکنان نظارت اور صد را انجمن احمدیہ کے ایڈریس کا جواب ۲۶ نومبر ۱۹۲۴ء کو کارکنان نظارت اور صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے بھی ایڈریس پیش کیا گیا حضور نے ایڈریس پیش کرنے والوں کو جَزَاكُمُ اللَّهُ تَعَالَى أَحْسَنُ الْجَزَاءِ کہتے ہوئے بڑے مؤثر اور دلنشیں انداز میں یہ نصیحت فرمائی کہ :۔ تم لوگ اپنے کاموں میں اخلاص اور نیتوں میں پاکیزگی اختیار کرو اور یہ کبھی خیال نہ کرو کہ لوگ تمہارے کاموں کو دیکھتے ہیں یا نہیں۔ سب کا معاملہ خدا تعالیٰ سے ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہوگی ۔ جس نیت اور جس اخلاص سے کوئی کام کیا ہو گا اس کا بدلہ ویسا ہی ملے گا اور کسی کی محنت ضائع نہیں کی جائے گی۔" اپنے اس خطاب کو حضور نے اس دعا پر ختم کیا کہ :۔ خدا تعالی ہماری جماعت کے ہر ایک شخص کو اس بات کی توفیق دے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو اخلاص اور پاکیزہ نیت سے پورا کرے تاکہ جب وہ خدا کے حضور پیش ہو تو کہہ سکے کہ جو کام میرے سپرد کیا گیا تھا اسے میں نے کیا جہاں تک میری طاقت تھی۔" ساکنان محله دارالرحمت کے سپاس نامہ کا جواب ۲۷۔ نومبر ۱۹۲۴ء کی شام محلہ دار الرحمت کے ایڈریس کے جواب میں آپ نے اہل محلہ کا شکریہ ادا کرنے کے بعد فرمایا کہ محلوں کی آبادی کا خیال میرے دل میں آیا تھا اور یہ اس وجہ سے تھا کہ اس طرح جو آمد ہو اس سے قرآن مجید کا پہلا مترجم پارہ ہمارے خاندان کی طرف سے شائع ہو اور اس کی آمد سے دوسرا پارہ شائع ہو اور اس طرح سارا قرآن مجید ہمارے خاندان کی طرف سے شائع ہو جائے اور یہ وجہ بھی تھی کہ اس طرح قادیان کی ترقی اور وسعت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پوری ہو جائے۔ اپنے خطاب کے آخر میں حضور نے طاعون سے بچاؤ کے بارہ میں احباب جماعت کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بارہ میں نصائح فرمائیں۔