انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 322

۳۲۲ مگر اس کی کوئی اہم غرض نہیں رکھی۔اس حقیقت کے اظہار کے بعد کہ اسلام کے نزدیک مرنے کے بعد بھی انسانی زندگی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام اس زندگی کی جو حقیقت ہمیں بتاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگلا جہان کوئی نئی دنیا نہیں ہے بلکہ اسی دنیا کا تسلسل ہے۔یہ نہیں کہ ہر انسان مر کر کسی وقت تک مردہ پڑا رہے گا اور پھر اس کو زندہ کر کے اس کی نیکی اور بدی کے مطابق اس کو کسی اچھی یا بری جگہ میں رکھا جائے گا بلکہ درحقیقت انسانی روح اپنی پیدائش کے ساتھ ہی ایسی طاقتوں کو لے کر آتی ہے کہ اس کے بعد اس کے لئے فنا حرام ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی صفت قیوم اس کو اپنے سایہ کے نیچے لے آتی ہے اس وجہ سے وہ ہلاکت سے محفوظ ہو جاتی ہے۔پس موت ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف انتقال کا نام ہے ا س سے زیادہ اور کچھ نہیں۔اور اس انتقال کی ضرورت قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ اگر موت نہ ہوتی تو انسانی روح کامل ترقیات بھی حاصل نہیں کر سکتی تھی کیونکہ انسان کی پیدائش ایسے طریق پر کی گئی ہے کہ جب کسی امر کا کامل انکشاف اس پر ہو جائے تو پھر وہ غلط راستہ پر نہیں چلتا اور کامل انکشاف کے بعد کسی ثواب کا ملنا بھی عقل کے خلاف ہے۔ہم کسی کو اس لئے انعام نہیں دیتے کہ وہ سورج کو جب وہ نصف النہار پر ہوتا ہے مانتا ہے یا رات اور دن کا قائل ہے لیکن ہم مثلاً ایسے طالب علم کو جو امتحان میں بیٹھ کر باریک سوالوں کو حل کرتا ہے انعام دیتے ہیں۔یا ایسے لوگوں کو جو باریک اسرارِ قدرت کو دریافت کرتے ہیں معزز اور مکرم سمجھتے ہیں اور ان کے درجہ کو بلند کرتے ہیں۔پس انعام صرف خاص محنت اور پوشیدہ باتوں کے نکالنے پر ملتا ہے اور ایسے کاموں کے کرنے پر ملتا ہے جن میں انسان کو ہمت اور قوت سے کام لینا پڑے لیکن اگر انسانی ترقیات کا دروازہ اسی دنیا میں شروع ہو جاتا تو بعد میں آنے والی نسلیں ان لوگوں کو دیکھ کر جو اچھے کام کر کے بہت اعلیٰ ترقیات کو حاصل کر رہے ہوتے اور ان لوگوں کو دیکھ کر جو انبیاء کی مخالفت کی وجہ سے سخت آفات میں مبتلاء ہوتےخدا تعالیٰ کی ہستی پر اور انبیاء کی سچایئ پر ایسا یقین کر لیتیں کہ آئندہ ان کے لئے ابتلاء اور امتحان کا کوئی موقع ہی نہ رہتا اور وہ مستحق بھی نہ رہتیں۔پس یہ ضروری تھا کہ ایمان کو اور اس کے ثمرات کو ایک حد تک ظاہر کیا جائے اور ایک حد تک مخفی رکھا جائے تاکہ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے لئے محنت کرنے والے ہیں اور وہ لوگ جو دنیا کی لذت میں انہماک کرنے والے ہیں ایک دوسرے سے ممتاز ہو جائیں اور اپنی اپنی قابلیت اور قربانی کے مطابق انعام یا سزا پائیں۔