انوارالعلوم (جلد 8) — Page 315
انوار العلوم جلد ۸ ۳۱۵ احمدیت یعنی حقیقی اسلام پھر دو نو فریق کی بات سن کر ایک فیصلہ کریں جو فریق تسلیم نہ کرے سب مل کر اس سے لڑیں اور جب وہ زیر ہو جائے تو اس وقت اپنے مطالبات اپنی طرف سے نہ پیش کریں بلکہ پہلے ہی جھگڑے کو سلجھا دیں۔ کیونکہ اگر ایسے موقع پر شکست خوردہ قوم کو لوٹنے کی تجویز ہوئی اور ہر ایک قوم نے مختلف ناموں سے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو لازماً ان فائدہ اٹھانے والی قوموں میں آپس میں بھی تباغض اور تحاسد بڑھے گا اور جس قوم کو وہ زیر کریں گی اس کے ساتھ بھی نیک تعلقات پیدا نہیں ہو سکیں گے اور مجلس بین الا قوام سے دنیا کی حکومتوں کو سچی ہمدردی بھی پیدا نہ ہو سکے گی۔ پس چاہئے کہ اس جنگ کے بعد صرف اسی جھگڑے کا تصفیہ ہو جس پر جنگ شروع ہوئی تھی نہ کہ کسی اور امر کا۔ هرگز اب رہا یہ سوال کہ جو اخراجات جنگ پر ہوں گے وہ کس طرح برداشت کئے جاویں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے ہے کہ اخراجات جنگ سب قوموں کو خود برداشت کرنے چائیں چاہئیں اور ، یہ بوجھ ہر زیادہ نہیں ہو گا۔ اول تو اس وجہ سے کہ مذکورہ بالا انتظام کی صورت میں جنگیں کم ہو جائیں گی اور کسی قوم کو جنگ کرنے کی جرأت نہ ہوگی۔ دوسرے چونکہ اس انتظام میں خود غرضی اور بوالہوسی کا دخل نہ ہو گا سب اقوام اس کی طرف مائل ہو جائیں گی اور مصارف جنگ اس قدر تقسیم ہو جائیں گے کہ ان کا بوجھ محسوس نہ ہو گا۔ تیسرے چونکہ اس انتظام کا فائدہ ہر اک قوم کو پہنچے گا کیونکہ کوئی قوم نہیں جو جنگ میں مبتلاء ہونے کے خطرہ سے محفوظ ہو اس لئے انجام کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ خرچ موجودہ اخراجات سے جو تیاری جنگ کی نیت سے حکومتوں کو کرنے پڑتے ہیں کم ہوں گے اور اگر بفرض محال کچھ زائد خرچ کرنا بھی پڑے تو جس طرح افراد کا فرض ہے کہ امن عامہ کے قیام کی خاطر قربانی کریں اقوام کا بھی فرض ہے کہ قربانی کر کے امن کو قائم رکھیں۔ وہ اخلاق کی حکومت سے بالا نہیں ہیں بلکہ اس کے ماتحت ہیں۔ میرے نزدیک سب فساد اسی اختلاف کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو قرآن کریم کی پیش کردہ تجویز سے کیا جاتا ہے (1) یعنی آپس کے انفرادی سمجھوتوں کی وجہ سے جو پہلے سے کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان کی بجائے سب اقوام کا ایک معاہدہ ہونا چاہئے۔ (۲) جھگڑے کو بڑھنے دینے کے سبب سے۔ (۳) حکومتوں کے جنبہ داری کو اختیار کر کے ایک فریق کی حمایت میں دخل دینے کے سبب