انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 314

انوار العلوم جلد ۸ له الله احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں پھر صلح کرا دو مگر انصاف اور عدل سے اور مروت سے کام لو ۔ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اس آیت میں بین الاقوامی صلح کے قیام کے لئے مندرجہ ذیل لطیف گر بتائے ہیں۔ سب سے اول جب دو قوموں میں لڑائی اور فساد کے آثار ہوں معا دوسری قومیں بجائے ایک یا دوسری کی طرف داری کرنے کے ان دونوں کو نوٹس دیں کہ وہ قوموں کی پنچائت سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کرائیں۔ اگر وہ منظور کر لیں تو جھگڑا مٹ جائے گا۔ لیکن اگر ان میں سے ایک نہ مانے اور لڑائی پر تیار ہو جائے تو دوسرا قدم یہ اٹھایا جائے کہ باقی سب اقوام اس کے ساتھ مل کر لڑیں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ سب اقوام کا مقابلہ ایک قوم نہیں کر سکتی ضرور ہے کہ جلد اس کو ہوش آ جائے اور وہ صلح پر آمادہ ہو جائے ۔ پس جب وہ صلح کے لئے تیار ہو تو تیسرا قدم یہ اٹھائیں کہ ان دونوں قوموں میں جن کے جھگڑے کی وجہ سے جنگ شروع ہوئی تھی صلح کرا دیں۔ یعنی اس وقت اپنے آپ کو فریق مخالف بنا کر خود اس سے معاہدات کرنے نہ بیٹھیں بلکہ اپنے معاہدات تو جو پہلے تھے وہی رہنے دیں۔ صرف اسی پہلے جھگڑے کا فیصلہ کریں جس کے سبب سے جنگ ہوئی تھی اس جنگ کی وجہ سے نئے مطالبات قائم کر کے ہمیشہ کے فساد کی بنیاد نہ ڈالیں۔ چوتھے یہ امر مد نظر رکھیں کہ معاہدہ انصاف پر مبنی ہو یہ نہ ہو کہ چونکہ ایک فریق مخالفت کر چکا ہے اس لئے اس کے خلاف فیصلہ کر دو بلکہ باوجود جنگ کے اپنے آپ کو ثالثوں کی ہی صف میں رکھو فریق مخالف نہ بن جاؤ ۔ ان امور کو مد نظر رکھ کر اگر کوئی انجمن بنائی جائے تو دیکھو کہ کس طرح دنیا میں بین الاقوامی صلح ہو جاتی ہے سب فساد اس امر سے پیدا ہوتا ہے کہ اول تو جب جھگڑا ہوتا ہے دوسری طاقتیں الگ بیٹھی دیکھتی رہتی ہیں اور جب دخل دیتی ہیں تو الگ الگ دخل دیتی ہیں۔ کوئی کسی کے ساتھ ہو جاتی ہے اور کوئی کسی کے ساتھ اور یہ جنگ کو بڑھاتا ہے گھٹاتا نہیں۔ اگر دوسری طاقتیں آپس میں مل کر بغیر اپنے خیالات کے اظہار کئے کے پہلے یہ فیصلہ کرلیں کہ حکومتوں کی پنچائت کے ذریعہ اس جھگڑے کو طے کیا جائے اور سب مل کر متفقہ طور پر ایک کو نہیں دونوں کو یا جس قدر حکومتیں جھگڑ رہی ہوں سب کو توجہ دلائیں کہ لڑنے کی ضرورت نہیں بین الاقوامی مجلس میں اپنے خیالات پیش کرو اور انصاف کے اس اصل کو مد نظر رکھیں کہ وہ پہلے سے کوئی خیالات نہ قائم کر لیں جس طرح حج فریقین کی باتیں سننے سے پہلے کوئی رائے قائم نہیں کرتا۔