انوارالعلوم (جلد 8) — Page 313
۳۱۳ تمہاری طرف سے معاہدہ کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔اس کا اعلان کر کے پھر بھی اگر وہ باز نہ آئیں تو پھر بے شک جنگ کرسکتے ہو یونہی نہیں۔مگر امن کے قیام کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ ہر ایک ملک جنگ کے لئے تیار رہے تا شریر اور کمینہ دشمن اس کی کمزوری کو دیکھ کر اس سے ناجائز فائدہ نہ اٹھانا چاہے۔پس فرمایا کہ خود تو دوسرے کے ملک سے ناجائز فائدہ نہ اٹھانا چاہو لیکن دوسری اقوام جب تک موجود ہیں جنگ کا خطرہ ہے پس اپنے طور پر دفاع کے لئے پوری طرح تیار رہو تا تمہاری کمزروی دوسرے کو جنگ کی تحریک نہ کر دے۔اگر جنگ ہو جائے تو اس وقت کے لئے حکم دیتا ہے کہ عورتوں، بچوں اور اپنی عمر کو مذہبی کاموں کے لئے وقف کر دینے والوں اور بوڑھوں کو کچھ نہ کہو، صرف ان لوگوں کو مارو اور لڑائی میں مارو جو جنگ کر رہے ہوں اور اگر کوئی ہتھیار دے اور کہے کہ میں نہیں لڑتا تو پھر اس کو قتل کرنا ناجائز ہو گا۔کسی ملک کا بے فائدہ نقصان بھی نہ کرو جب تک کوئی بھی صورت دشمن کے زیر کرنے یا اپنے بچانے کی ہے اس کے کھیتوں اور درختوں اور مکانوں کو بچاؤ اور بِلا سبب اس غرض سے نقصان نہ پہنچاؤ کہ بعد میں ان کی حکومت کمزور رہے گی۔اور اگر کوئی قوم صلح کا پیغام دے تو اس خیال سے کہ اس کے دل میں شرارت ہے وہ صرف وقفہ چاہتی ہے صلح سے انکار نہ کرو بلکہ جب تک شرارت ظاہر نہ ہو جنگ کو مٹانے اور صلح کرنے کی کوشش کرو۔جھگڑوں کو مٹانے کے لئے ایک عجیب حکم دیا ہے جسے آج لیگ آف نیشنز کی شکل میں دیکھتے ہیں لیکن ابھی تک یہ لیگ ویسی مکمل نہیں ہوئی جس حد تک کہ اسلام اس کو لے جانا چاہتا ہے اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الحجرات:10) یعنی گر دو قومیں مسلمانوں میں سے آپس میں لڑ پڑیں تو ان کی آپس میں صلح کرا دو۔یعنی دوسری قوموں کو چاہئے کہ بیچ میں پڑ کر ان کو جنگ سے روکیں اور جو وجہ جنگ کی ہے اس کو مٹائیں اور ہر ایک کو اس کا حق دلائیں لیکن اگر باوجود اس کے ایک قوم باز نہ آئے اور دوسری قوم پر حملہ کر دے اور مشترکہ انجمن کا فیصلہ نہ مانے تو اس قوم سے جو زیادتی کرتی ہے سب قومیں مل کر لڑو یہاں تک کہ خدا کے حکم کی طرف وہ لوٹ آئے یعنی ظلم کا خیال چھوڑ دے۔پس اگر وہ اس امر کی طرف مائل ہو جائے تو ان دونوں قوموں