انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 312

۳۱۲ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَى (طه :132)اور اے مسلم! تو اپنی آنکھوں کو دنیاوی منافع کی طرف جو تمہارے سوا دوسری اقوام کو ہم نے دئیے ہیں تاکہ ان کے اعمال کی آزمائش کریں اٹھا اٹھا کر نہ دیکھ اور تیرے رب نے جو تجھے دیا ہے وہی تیرے لئے اچھا ہے اور زیادہ دیر تک رہنے والا ہے یعنی مرنے کے بعد بھی وہی کام آئے گا اور جو دوسری اقوام پر تعدی کر کے مال لو گے تو وہ نفع نہیں دے گا او رنہ قائم رہے گا۔دوسرا باعث اس قسم کے ناجائز فوائد اٹھانے کا آپس کی دشمنیاں ہوتی ہیں۔کوئی قومی مغائرت یا نفرت دل میں ہوتی ہے یا کسی وقت کسی قوم سے کوئی تکلیف پہنچی ہوتی ہے پھر صلح بھی ہو جاتی ہے اور معاملہ رفع دفع بھی ہو جاتا ہے مگر ایک قوم اس کو دل میں رکھ لیتی ہے اور آہستہ آہستہ دوسری حکومت کو کمزور کرتی چلی جاتی ہے اور دباؤ یا دھوکے سے اس سے ناجائز فوائد اٹھانے شروع کر دیتی ہے تاکہ اسے نقصان پہنچائے۔اسلام اسے ناپسند کرتا ہے اور صرف سچائی کامعاملہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (المائدة: 9) اے مومنو! اپنے تمام کاموں کو خدا کے لئے کرو۔اور انصاف سے دنیا میں معاملہ کرو اور کسی قوم کی دشمنی تم کو اس امر پر نہ اکساوے کہ تم عدل کا معاملہ نہ کرو تم بہرحال انصاف کا معاملہ کرو یہ بات تقویٰ کے مطابق ہے اللہ تعالیٰٰ کو اپنی ڈھال بناؤ۔اللہ تعالیٰٰ اس سے جو تم کرتے ہو خبردار ہے۔ان دونوں احکام کے ماتحت کوئی حقیقی مسلمان حکومت، بین الاقوامی تعلقات کو خراب کرنے کا موجب نہیں ہو سکتی کیونکہ مسلمانوں کو حکم ہے کہ وہ دوسری قوموں کے مالوں اور حکومتوں کی طرف کبھی طمع کی نگاہ نہ ڈالیں اور نہ صرف یہ کہ من حیث الفرد با اخلاق ہوں بلکہ چاہئے کہ من حیث القوم بھی با اخلاق ہوں۔باہمی معاہدات کے متعلق اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ معاہدات کی اس قدر پابندی کرو کہ جس قوم سے تمہارا معاہدہ ہے اس سے جس جس قوم کامعاہدہ ہے وہ بھی اگر عملاً جنگ میں شامل نہ ہو تو خواہ وہ ایک برسر جنگ قوم کا حصہ ہی ہو تو اس سے جنگ نہ کرو۔ایک قوم جو معاہدہ کر چکی ہے اگر اس سے شرارت کا خطرہ ہے تو حکم دیتا ہے کہ باوجود اس کی شرارت کے یہ نہ کرو کہ اچانک اس پر حملہ کر دو اور موقع سے فائدہ اٹھاؤ بلکہ اس کو پہلے نوٹس دو کہ ہم معاہدہ کو ختم کرتے ہیں کیونکہ