انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 312

انوار العلوم جلد ۸ ۳۱۲ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ۲۶۲ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَى اور اے مسلم ! تو اپنی آنکھوں کو دنیاوی منافع کی طرف جو تمہارے سوا دوسری اقوام کو ہم نے دیئے ہیں تاکہ ان کے اعمال کی آزمائش کریں اٹھا اٹھا کر نہ دیکھ اور جو تجھے دیا ہے وہی تیرے لئے اچھا ہے اور زیادہ دیر تک رہنے والا ہے یعنی مرنے رب نے آئے گا اور جو دوسری اقوام پر تعدی کر کے مال لوگے تو وہ نفع نہیں دے گا تیرے رب کے بعد بھی وہی کام آئے گا اور نہ قائم رہے گا۔ دوسرا باعث اس قسم کے ناجائز فوائد اٹھانے کا آپس کی دشمنیاں ہوتی ہیں۔ کوئی قومی مغائرت یا نفرت دل میں ہوتی ہے یا کسی وقت کسی قوم سے کوئی تکلیف پہنچی ہوتی ہے پھر صلح بھی ہو جاتی ہے اور معاملہ رفع دفع بھی ہو جاتا ہے مگر ایک قوم اس کو دل میں رکھ لیتی ہے اور آہستہ آہستہ دوسری حکومت کو کمزور کرتی چلی جاتی ہے اور دباؤ یا دھو کے سے اس سے ناجائز فوائد اٹھانے شروع کر دیتی ہے تاکہ اسے نقصان پہنچائے ۔ اسلام اسے ناپسند کرتا ہے اور صرف سچائی کا معاملہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ۲۶۳ اے مومنو! اپنے تمام کاموں کو خدا کے لئے کرو۔ اور انصاف سے دنیا میں معاملہ کرو اور کسی قوم کی دشمنی تم کو اس امر پر نہ اکساوے کہ تم عدل کا معاملہ نہ کرو تم بہر حال انصاف کا معاملہ کرو یہ بات تقویٰ کے مطابق ہے اللہ تعالیٰ کو اپنی ڈھال بناؤ ۔ اللہ تعالٰی اس سے جو تم کرتے ہو خبردار ہے۔ ان دونوں احکام کے ماتحت کوئی حقیقی مسلمان حکومت، بین الاقوامی تعلقات کو خراب کرنے کا موجب نہیں ہو سکتی کیونکہ مسلمانوں کو حکم ہے کہ وہ دوسری قوموں کے مالوں اور حکومتوں کی طرف کبھی طمع کی نگاہ نہ ڈالیں اور نہ صرف یہ کہ مِنْ حَيْثُ الْفَرد با اخلاق ہوں بلکہ چاہئے کہ مِنْ حَيْثُ الْقَوْمِ بھی با اخلاق ہوں۔ باہمی معاہدات کے متعلق اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ معاہدات کی اس قدر پابندی کرو کہ جس قوم سے تمہارا معاہدہ ہے ارا معاہدہ ہے اس سے جس جس قوم کا معاہدہ ہے وہ بھی اگر عملا جنگ میں شامل نہ ہو تو خواہ وہ ایک بر سر جنگ قوم کا حصہ ہی ہو تو اس سے جنگ نہ کرو۔ ایک قوم جو معاہدہ کر چکی ہے اگر پر اس سے شرارت کا خطرہ ہے تو حکم دیتا ہے کہ باوجود اس کی شرارت کے یہ نہ کرو کہ اچانک اس حملہ کر دو اور موقع سے فائدہ اٹھاؤ بلکہ اس کو پہلے نوٹس دو کہ ہم معاہدہ کو ختم کرتے ہیں کیونکہ