انوارالعلوم (جلد 8) — Page 311
۳۱۱ کانوں کی دریافت ہے اس کا علاج اسلام نے یہ کیا ہے کہ کانوں میں سے پانچواں حصہ گورنمنٹ کا مقرر کیا ہے اور جو مال کانوں کے مالک جمع کریں اور اس پر سال گزر جائے اس پر زکٰوۃ الگ ہے گویا اس طرح حکومت کانوں میں حصہ دار ہو جاتی ہے اور غرباء کے لئے ایک کافی رقم مل جاتی ہے جس سے ان کے حقوق ادا کئے جا سکتے ہیں۔اگر کوئی شخص جس کی زمین میں سے کان نکلی ہو اس سے فائدہ اٹھانے کی توفیق نہ رکھے تو چونکہ گورنمنٹ کا بھی اس میں حصہ ہے گو ر نمنٹ مناسب معاوضہ دے کر اسے خرید سکتی ہے یا اور کسی کے پاس اس کے حصہ کو فروخت کرنے کی اجازت دے سکتی ہے اس طرح کانوں کی وجہ سے جو نظام تمدن میں نقص ہے وہ بھی دور ہو جاتا ہے۔حکومتوں کے آپس کے تعلقات حکومتوں اور رعایا اور امراء اور غرباء کے تعلقات کے بیان کرنے کے بعد اب میں ان تعلیمات کو بیان کرتا ہوں جو اسلام نے بین الاقوامی تعلقات کے متعلق دی ہیں۔"یاد رکھنا چاہئے کہ اسلامی تعلیمات کا مطمح نظر تو یہ ہے کہ دنیا میں ملکی حکومتوں کو اڑا کر ساری دنیا میں ایک ہی حکومت قائم کر دی جائے تا لڑائیوں اور جھگڑوں کا خاتمہ ہو جائے۔اسلام مختلف ممالک کو اس قدر اندرونی آزادی دیتا ہے کہ اسلامی سیاسیات کے ماتحت وہ نہایت آسانی سے اپنی قومی اغراض اور خصوصیات کو پورا کر سکتے ہیں اور پھر بھی ایک کُل کا جزو بن سکتے ہیں۔مگر اسلام اس مقصد کے حصول کے لئے کسی قسم کی جسمانی جد و جہد کرنے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اسے صرف لوگوں کی اپنی رائے اور ارادے پر چھوڑ دیتا ہے اور مسلمانوں کو بھی پابند نہیں کرتا۔جب تک دنیا میں یہ روح پیدا نہ ہو کہ لوگ مقامی امور کو اپنی اپنی مرضی کے مطابق طے کر کے باقی امور میں ایک ہو جائیں اور لڑائی کی طرف میلان اور ایک دوسرے کے خلاف تیاریاں اور جوش اعلیٰ مقاصد کے لئے قربان کر دئیے جائیں اس وقت تک ہمیں موجودہ حالت پر قانع رہنا چاہئے اور میں اس کے مطابق جو قانون اسلام نے مقرر کئے ہیں ان کو بیان کرتا ہوں۔دیکھا جاتا ہے کہ تمام لڑائیاں اور جھگڑے ایک دوسرے کے ملک پر طمع کی نظر رکھنے یا آپس میں ایک دوسرے سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش سے پیدا ہوتے ہیں۔اسلام اس کے متعلق یہ دو حکم دیتاہے جو اس سلسلہ جنگ و جدال کو بالکل مٹا دیتے ہیں۔اول فرماتا ہے وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ