انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 309

انوار العلوم جلد ۸ سال ان کو غریبوں کا ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ ۳۰۹ احمدیت یعنی حقیقی اسلام دوسرے شریعت نے یہ انتظام کیا ہے کہ غرباء میں سے ہوشیار اور ترقی کرنے والے لوگوں کو اس ٹیکس میں سے اس قدر سرمایہ دیا جائے کہ وہ اپنا کام چلا سکیں اس ذریعہ سے نئے نئے لوگوں کو ترقی کرنے کا موقع ملے گا اور کسی کو شکایت کا موقع نہیں رہے گا۔ تیسرے اسلام نے ان : ان ترکیبوں ں سے منع کر دیا ہے جن کے ذریعہ سے لوگ نا جائز طور پر زیادہ نفع حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ اسلام اس امر کو گناہ قرار دیتا ہے کہ کوئی شخص تجارتی مال کو اس لئے روک رکھے کہ تا اس کی قیمت بڑھ جائے اور وہ زیادہ قیمت پر فروخت ہو ۔ پس اس اصل کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹرسٹس کی قسم کے تمام ذرائع جن سے نفع کو زیادہ کیا جاتا ہے اسلامی تعلیم کے مطابق نا جائز ہوں گے اور حکومت ان کی اجازت نہ دیگی۔ اب ایک سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اگر سود بند کیا جائے گا تو تمام تجار تیں تباہ ہو جائیں گی مگر یہ امر درست نہیں۔ ممانعت سود سے کبھی تجارتیں تباہ نہ ہونگی۔ اب بھی سود کی وجہ سے تجارتیں نہیں چل رہیں بلکہ اس و اس وجہ سے سود کا تعلق تجارت سے ہے کہ مغربی ممالک نے اس طریق کو نشو و نما دیا ہے اگر وہ اپنی اگر وہ اپنی تجارتوں کی بنیاد شروع سے سود پر نہ ر سود پر نہ رکھتے تو نہ رکھتے تو نہ آج یہ بے امنی کی صورت نظر آتی اور نہ تجارتوں سے سود کا کوئی تعلق ہو۔ ہوتا۔ آج سے چند سو سال پہلے مسلمانوں نے ساری دنیا سے تجارت کی ہے اور اپنے زمانہ کے لحاظ سے کامیاب تجارت کی ہے مگر وہ سود بالکل نہیں لیتے تھے۔ وہ بوجہ سود نہ ۔ لینے کے ادنی ادنیٰ غرباء سے رباء سے روپیہ شراکت کے طور پر لیتے تھے اور ملک کے اکثر حصہ کو ان تجارتوں سے فائدہ پہنچتا تھا۔ پس سود کی وجہ سے تجارتیں نہیں چل رہیں بلکہ سود پر چونکہ ان کی بنیاد رکھی گئی ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سود پر چل رہی ہیں۔ بے شک شروع میں دقتیں ہونگی لیکن جس طرح سود پر بنیاد رکھی گئی ہے اسی طرح اس عمارت کو آہستگی سے ہٹایا بھی جاسکتا ہے۔ سود اس زمانہ کی وہ جو نک ہے جو انسانیت کا خون چو ہے جو انسانیت کا خون چوس رہی ہے غرباء اور درمیانی درجہ کے لوگ بلکہ امراء بھی اس ظلم کا شکار ہو رہے ہیں مگر بہت سے لوگ اس چیتے کی طرح جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی زبان پتھر پر رگڑ رگڑ کر کھا گیا تھا ایک جھوٹی لذت محسوس کر رہے ہیں جس کے سبب سے وہ اس کو چھوڑنا پسند نہیں کرتے اور اگر چھوڑنا چاہتے ہیں تو سو سائٹی کا بہاؤ ان کو الگ ہونے نہیں دیتا۔