انوارالعلوم (جلد 8) — Page 309
۳۰۹ سال ان کو غریبوں کا ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔دوسرے شریعت نے یہ انتظام کیا ہے کہ غرباء میں سے ہوشیار اور ترقی کرنے والے لوگوں کو اس ٹیکس میں سے اس قدر سرمایہ دیا جائے کہ وہ اپنا کام چلا سکیں اس ذریعہ سے نئے نئے لوگوں کو ترقی کرنے کا موقع ملے گا اور کسی کو شکایت کا موقع نہیں رہے گا۔تیسرے اسلام نے ان تر کیبوں سے منع کردیا ہے جن کے ذریعہ سے لوگ ناجائز طور پر زیادہ نفع حاصل کرتے ہیں۔چنانچہ اسلام اس امر کو گناہ قرار دیتا ہے کہ کوئی شخص تجارتی مال کو اس لئے روک رکھے کہ تا اس کی قیمت بڑھ جائے اور وہ زیادہ قیمت پر فروخت ہو۔پس اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹرسٹس کی قسم کے تمام ذرائع جن سے نفع کو زیادہ کیا جاتا ہے اسلامی تعلیم کے مطابق ناجائز ہوں گے اور حکومت ان کی اجازت نہ دیگی۔اب ایک سوال ہی رہ جاتا ہے کہ اگر سود بند کیا جائے گا تو تمام تجارتیں تباہ ہو جائیں گی مگریہ امر درست نہیں مانت سود سے کبھی تجارتیں تباہ نہ ہوگی۔اب بھی سود کی وجہ سے تجارتیں نہیں چل رہیں بلکہ اس وجہ سے سود کا تعلق تجارت سے ہے کہ مغربی ممالک نے اس طریق کو نشوونما دیا ہے اگر وہ اپنی تجارتوں کی بنیادر شروع سے سود پر نہ رکھتے تو نہ آج یہ بے امنی کی صورت نظر آتی اور نہ تجارتوں سے سود کا کوئی تعلق ہو تا۔آج سے چند سو سال پہلے مسلمانوں نے ساری دنیاسے تجارت کی ہے اور اپنے زمانہ کے لحاظ سے کامیاب تجارت کی ہے مگر وہ سود بالکل نہیں لیتے تھے۔وہ بوجہ سود نہ لینے کے ادنی ٰ،ادنی ٰ غرباء سے روپیہ شراکت کے طور پر لیتے تھے اور ملک کے اکثر حصہ کو ان تجارتوں سے فائدہ پہنچا تھا۔پس سود کی وجہ سے تجارتیں نہیں چل رہیں بلکہ سود پر چونکہ ان کی بنیاد رکھی گئی ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سود پر چل رہی ہیں۔بے شک شروع میں دقتیں ہو نگی لیکن جس طرح سودپر بنیاد رکھی گئی ہے اسی طرح اس عمارت کو آہستگی سے ہٹایا بھی جاسکتا ہے۔ٍسود اس زمانہ کی وہ جو نک ہے جو انسانیت کا خون چوس رہی ہے زراء اور درمیانی درجہ کے لوگ بلکہ امراء بھی اس ظلم کا شکار ہو رہے ہیں مگر بہت سے لوگ اس چیتے کی طرح جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی زبان پر پتھر رگڑ رگڑ کر کھا گیا تھا ایک جھوٹی لذت محسوس کر رہے ہیں جس کے سبب سے وہ اس کو چھوڑنا پسند نہیں کرتے اور اگر چھوڑنا چاہتے ہیں تو سوسائٹی کا بہاؤ ان کو الگ ہونے نہیں دیتا۔