انوارالعلوم (جلد 8) — Page 297
۲۹۷ سے رونے کی آواز آ رہی ہے ادھر گئے تو دیکھا ایک عورت کچھ پکا رہی ہے اور دو تین بچے رو رہے ہیں۔اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے اس نے کہا کہ دو تین وقت کا فاقہ ہے کھانے کو کچھ پاس نہیں بچے بہت بیتاب ہوئے تو خالی ہنڈیا چڑھا دی تو یہ بہل جائیں اور سو جائیں۔حضرت عمرؓ یہ بات سن کر فوراً مدینہ کی طرف واپس آئے آٹا ، گھی، گوشت اور کھجوریں لیں اورایک بوری میں ڈال کر اپنے خادم سے کہا کہ میری پیٹھ پر رکھ دے۔اس نے کہا حضور میں جو موجود ہوں میں اٹھا لیتا ہوں آپ نے جواب دیا بے شک تم اس کو تو اٹھا کر لے چلو گے مگر قیامت کے دن میرا بوجھ کون اٹھائے گا؟ یعنی ان کی روزی کا خیال رکھنا میرا فرض تھا اور اس فرض میں مجھ سے کوتاہی ہوئی ہے اس لئے اس کا کفارہ یہی ہے کہ میں خود اٹھاکر یہ اسباب لے جاؤں اور ان کے گھر پہنچاؤں۔چونکہ سارے ملک کی خبر ملنی مشکل ہوتی ہے اس لئے اسلامی حکومت میں یہ انتظام ہوتا تھاکہ سب ملک کی مردم شماری کی جاتی تھی اور پیدائش اور موت کے رجسٹر مقرر کئے گئے تھے اور ان کی غرض آجکل کی حکومتوں کی طرح حکومت کے خزانوں کا بھرنا نہیں بلکہ خزانوں کا خالی کرنا ہوتی تھی۔ان رجسٹروں کے ذریعے سے ملک کی عام حالت معلوم ہوتی رہتی تھی اور جو لوگ محتاج ہوتے ان کی مدد کی جاتی۔مگر اسلام جہاں غرباء کی خبرگیری کا حکم دیتا ہے وہاں جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں سستی اور کاہلی کو بھی مٹاتا ہے۔ان وظائف کی یہ غرض نہ تھی کہ لوگ کام چھوڑ بیٹھیں بلکہ صرف مجبوروں کو یہ وظائف دئیے جاتے تھے ورنہ سوال سے لوگوں کو روکا جاتا تھا۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ایک سائل دیکھا اس کی جھولی آٹے سے بھری ہوئی تھی آپ نے اس سے آٹا لے کر اونٹوں کے آگے ڈال دیا اور فرمایا اب مانگ۔اسی طرح یہ ثابت ہے کہ سوالیوں کو کام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔دوسرا فرض حکومت کا عدل کاقائم کرنا ہے۔حکومت کا کام ہے کہ قضاء کا اعلیٰ درجہ کا انتظام کرے اسلام نے اس کا خاص طور پر حکم دیا ہے اور قضاء کے لئے یہ احکام مقرر کئے ہیں کہ وہ کسی کی رعایت نہ کریں، رشوت نہ لیں، ان کے پاس کوئی سفارش نہ کی جائے اور نہ وہ سفارش کو قبول کریں، شہادت اور ثبوت پر مقدمہ کا فیصلہ کریں، شہادت اور ثبوت مدعی سے طلب کریں ورنہ مدعا علیہ سے قسم لیں، شہادت کے موقع پر دیکھ لیں کہ شہادت دینےوالے لوگ ثقہ اور