انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 290

ہوں گے اور ایسی جگہوں میں کثرت انفاس سے بو پیدا ہو جاتی ہے اس کو ہم اور نہ بڑھائیں وہ کوئی بدبودار چیز کھا کر جس سے منہ میں سے بو آنے لگتی ہو جیسے پیاز سن و غیره یا حقہ اور سگریٹ وغیرہ کیا تم کی چیزیں استعمال کر کے نہ جائیں تا باقی ساتھیوں کو تکلیف نہ ہو۔دوسرے ایسے موقع پر خوب صفائی کر کے اور نمادهو کر اور اگر ہو سکے تو خوشبو لگا کر جانا چاہئے تاکہ طبیعت میں نشاط پیدا ہو اور ہوا صاف ہو۔تیسرے مجلس کا حلقہ بڑا بنا کر بیٹھیں تم ایک دوسرے کے تخت سے لوگ تکلیف نہ اٹھائیں۔چوتھے یہ کہ جس کو کوئی متعدی مرض ہو وہ ان جگہوں میں نہ جائے جن میں لوگ جمع ہوتے ہیں کیونکہ اس طرح ان لوگوں کو اس مرض کے لئے کا خطرہ ہوتا ہے اس علم کی اس قدر تاکید ہے کہ حضرت عمر نے ایک کوڑھی کو حج بیت اللہ سے روک دیا اور کہا کہ اپنے گھر میں زیادہ بیٹھا کرو اختلاط کی تہوں میں نہ جایا کرو تاکہ لوگوں کو بیماری نہ لگے۔پانچویں جب کوئی شخص کلام کرنے کے لئے کھڑا ہو تو لوگوں کو چاہئے کہ اس کی طرف منہ کر کے توجہ سے کلام سنیں اور اس کی بات کو قطع نہ کریں اور دوران تقریر میں شور نہ کریں خواہ وہ کس قدر ہی طبیعت کے بر خلاف کیوں نہ ہو۔چھٹے یہ کہ جب بولیں آہنگی اور وقار سے بولیں۔اسی طرز پر کام نہ کریں کہ لوگ مجھے ہی نہ سکیں۔ساتھ میں یہ کہ جب مجلس میں کوئی اور شخص آجائے تو اس کے لئے جگہ بنادیں۔آٹھویں یہ کہ اگر کسی شخص کو کوئی ضرورت پیش آجائے تو وہ اجازت لے کر جائے بلا اجازت صد روہاں سے باہر نہ نکلے۔نویں یہ کہ جب کوئی شخص عارضی طور پر جائے اور پھر اس کے واپس آنے کا ارادہ ہو تو اس کی جگہ پر کوئی اور نہ بیٹھے۔د سویں یہ کہ وہ شخص جو آس پاس بیٹھے ہوں اور یہ معلوم ہو کہ یہ کسی غرض سے پاس بیٹھے ہیں تو خواہ ان کے درمیان کوئی بلکہ غالی بھی ہو وہاں نہ بیٹھے۔گیارویں ہے کہ جس مجلس میں تین آدمی ہوں وہ ایسی حالت میں آپس میں کلام نہ کریں کہ تیسرے آدمی کے دل میں وسوسہ پیدا ہو کہ یہ شاید میرے متعلق بات کرتے ہیں۔