انوارالعلوم (جلد 8) — Page 289
انوار العلوم جلد ۸ ۲۸۹ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے ذریعے ہی طے ہوتے ہیں اور ان اجتماعوں کا انسانی تمدن پر ایک نہایت وسیع اور گہرا اثر پڑتا ہے۔ پس میں اس حصہ کے متعلق جو احکام اسلام نے دیئے ہیں ان کو بھی بیان کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔ دعوتوں کے متعلق تو اسلام کے احکام یہ ہیں کہ جو لوگ دعوت میں بلائے جائیں ان کو چاہئے کہ جہاں تک ہو سکے دعوت کو قبول کریں کیونکہ دعوت محبت کی زیادتی کے لئے ہوتی ہے اور بے محل انکار محبت کو قطع کرتا ہے۔ پھر حکم ہے کہ دعوت کے موقع پر کوئی شخص بن بلائے نہ جائے اور کوئی شخص کسی کے ساتھ چلا جائے تو چاہئے کہ جس کے ساتھ وہ جائے وہ پہلے صاحب خانہ سے اجازت لے لے۔ اسی طرح یہ حکم ہے کہ کھانے کے وقت سے پہلے جاکر لوگ نہ بیٹھیں بلکہ مقررہ وقت پر جائیں ، کھانے کے وقت صفائی کا خیال رکھیں ہاتھ دھو کر بیٹھیں ، حرص کے ساتھ نہ کھائیں اور اپنے آگے سے کھائیں ، کھانا کھاتے وقت کھانے کی مذمت نہ کریں نہ اس قسم کی تعریف کریں کہ اس سے رذالت اور خوشامد ٹپکتی ہو ، جب کھانا کھا چکیں تو ہاتھ دھو ئیں اور دعا کریں جس میں صاحب خانہ اور اس کے رشتہ داروں کے لئے جنہوں نے اس کھانے کے تیار کرنے میں تکلیف اٹھائی تھی اللہ تعالی سے فضل اور برکت طلب کریں۔ اگر صاحب خانہ کی طرف سے ایسی کوئی درخواست یا التجا نہ ہو تو وہاں بیٹھے نہ رہیں بلکہ جلد فارغ ہو کر رخصت ہو جاویں۔ کانفرنسوں اور مجالس کے متعلق اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ صرف تین قسم کی انجمنیں اور کا نفرنسیں مفید ہو سکتی ہیں۔ جو ۲۳۳ اول مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ ۲۳۲۔ جن انجمنوں کا کام غرباء کی خبر گیری اور حاجتمندوں کی حاجت روائی ہو۔ دوسرے اَوْ مَعْرُوفِ جو علوم اور فنون کی تحقیق اور ترویج اور تعلیم اور اشاعت کی غرض سے بنائی گئی ہوں اور میرے اَوْ إِصْلَاحِ بَيْنَا ح بَيْنَ النَّاسِ فسادوں اور جھگڑوں کے مٹانے کے لئے بنی ہوں خواہ اہلی فسادوں کے دور کرنے کے لئے خواہ ملکی، خواہ قومی، خواہ بین الاقوامی فسادوں کے دور کرنے کے لئے خواہ ملکوں یا قوموں کے سیاسی انتظامات چلانے کے لئے کہ وہ بھی اصلاح کا ہی کام کرتے ہیں ان کا نفرنسوں اور انجمنوں کے انتظامات کے متعلق اسلام یہ تعلیم دیتا ہے۔ اول جب اس قسم کی کوئی مجلس ہو تو چاہئے کہ سب لوگ اس امر کو مد نظر رکھیں کہ اس جگہ پر بہت سے لوگ جمع