انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxii of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page xxxii

۲۵ لندن مشن کے متعلق ہدایات ۳۔ اکتوبر ۱۹۲۴ء مجلس مشاورت میں یہ طے پایا کہ مولانا عبدالرحیم صاحب درد کو احباب پٹنی (مشن ہاؤس) جا کر چھوڑ آئیں ۔ ۴۔ اکتوبر کی صبح حضرت خود بھی تشریف لے گئے۔ علاقہ ٹینی پہنچ کر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مسجد کی سکیم کا مختصر ذکر فرمایا اور مشن کی صفائی وغیرہ کیلئے ہدایات دیں۔ پھر حضور نماز والے کمرہ میں تشریف لے گئے جہاں دعا کرائی۔ حضرت صاحب نے اپنے دست مبارک سے مولانا درد صاحب کو کلید عطا فرمائی۔ یہ ایک ایسا اعزاز تھا جو آج تک کسی مبلغ کے حصہ میں نہیں آیا تھا۔ اس موقع پر حضور نے مبلغین کو باہم مل کر کام کرنے کے متعلق نہایت مفید نصائح سے نوازا اور آخر پر مبلغوں کے فرائض اور ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ وہ سوشل ہو اور لوگوں سے اپنے تعلقات بڑھائے۔ تعلقات بڑھانے میں سوسائٹی کے اعلیٰ طبقوں کو چھوڑنا نہیں چاہئے۔ اعلیٰ طبقہ سے تعلقات ہونے چاہئیں۔ دوسرے درجہ پر پولیٹیکل طبقہ سے تعلقات پیدا کرو۔ اخباری ، علمی اور منصف مزاج لوگوں سے ، نیوز ایجنسیوں سے تعلقات بڑھائے جائیں۔ خوش مزاق ہو۔ چڑے نہیں Humorous (زندہ دل) ہو۔ ناراض نہ ہو اختلاف کو بھی سنے۔ اپنے کریکٹر کو مضبوط رکھے کہ اعتراض نہ کیا جا سکے۔ ہ اپنے اخلاق سے متأثر کرے۔ طالب علموں کو شریعت کی پابندی کرائے۔ مکتوب بنام ایڈیٹر الفضل یہ خط حضور نے لندن سے ایڈیٹر صاحب الفضل قادیان کے نام ۸۔ اکتوبر ۱۹۲۴ء کو تحریر فرمایا ۔ مکرم ایڈیٹر صاحب نے حضور کی خدمت میں ایک خط لکھا تھا جس میں یہ ذکر تھا کہ مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی کابل میں سنگساری کے متعلق حضور نے جو تار یورپ کی بعض حکومتوں اور جمیعۃ الاقوام کو بھجوائے تھے اس پر چند غیر احمدی اخبارات نے اعتراض کیا ہے اور