انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 283

انوار العلوم جلد ۸ ۲۸۳ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ظاہر نہیں کرتا اس کے منہ میں قیامت کے دن آگ کی لگام ہو گی ۲۲۴۔ اس حکم کا یہ مطلب نہیں کہ جو ایجادیں وغیرہ لوگ کریں ان کو لوگوں پر ظاہر کر دیں اور خود فائدہ نہ اٹھائیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ علم کو دنیا سے ضائع نہ ہونے دیں اور اس کو چھپائیں نہیں ورنہ فائدہ اٹھانا جائز اور درست ہے اور پیٹنٹ یا رجسٹری کے رواج سے تو علوم کی حفاظت کا ایک دروازہ کھل ہی گیا ہے۔ مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ بہاد ربنے لیکن ظالم نہ ہو ۔ وہ نہ کمزوروں پر نہ عورتوں پر نہ بچوں پر نہ اور کسی پر ظلم کرے بلکہ وہ جانوروں تک پر ظلم نہ کرے چنانچہ لکھا ہے کہ عبد اللہ جو حضرت عمر " خلیفہ ثانی کے لڑکے تھے انہوں نے ایک دفعہ چند نوجوانوں کو دیکھا کہ زندہ جانوروں پر نشانہ پکار ہے رہے ہیں۔ جب ان لوگوں نے آپ کو دیکھا تو بھاگ گئے آپ نے فرمایا خدا ان پر ناراض ہوا جنہوں نے یہ کام کیا۔ میں نے رسول کریم سے سنا ہے آپ نے فرمایا خدا اس پر ناراض ہوا جس نے کسی جاندار چیز کو نشانہ بنایا یعنی باندھ کر ۲۲۵ ، یا پر وغیرہ توڑ کر۔ ورنہ یوں شکار اسلام میں منع نہیں۔ اسلام کا یہ حکم کیسا لطیف ہے جس کی تیرہ سو سال سے تعلیم دی جاتی رہی ہے جو ابھی بعض متمدن ممالک کے ذہنوں میں داخل نہیں ہوئی کیونکہ تھوڑا ہی عرصہ ہوا بعض مغربی ممالک میں زندہ کبوتروں پر نشانے پکانے کی ایک لہر چلی تھی اور بعض جگہ اسے جبراً روکنا پڑا تھا۔ اسی طرح لکھا ہے کہ رسول کریم ال نے ایک گدھے کو دیکھا کہ اس کے منہ پر داغ دیا ہوا تھا آپ نے اسے نہایت نا پسند فرمایا اور فرمایا کہ منہ پر جانور کو زیادہ تکلیف ہوتی ہے آئندہ داغ ران پر دیا جائے ۲۲۶، اور آپ اللہ کے حکم سے ہی ران پر داغ دینے کا رواج چلا۔ اسی طرح آپ نے دیکھا کہ کسی نے قمری کے بچوں کو پکڑ لیا ۔ آپ نے فرمایا کہ اس طرح اسے بچوں کی وجہ سے تکلیف نہ دو۔ فوراً بچے اُڑا دو اور آپ نے فرمایا کہ جانوروں پر رحم کرنے اور بھوک میں کھلانے اور پیاس میں پلانے پر بھی خدا تعالی رحم کرتا ہے ۔ ۲۲۷ پھر مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالے چنانچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس علاقہ میں کوئی دبائی بیماری ہو وہاں کے لوگ دوسرے شہروں میں نہ جائیں اور دوسرے لوگ اس علاقہ میں نہ آئیں ۔ ۲۲۸ کیا ہی لطیف حکم ہے جسے آج قرنطینہ کے نام سے ایک نئی ایجاد قرار دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اس حکم کی ابتداء اسلام سے