انوارالعلوم (جلد 8) — Page 276
۲۷۶ رکھ کر جب کہ آپ کے پاؤں زمین پر گھسٹتے جاتے تھے ایک بیوی کے گھر سے دوسری بیوی کے گھر جاتے تھے۔حتیٰ کہ وفات سے چند دن پہلے آپ کی بیویوں نے درخواست کی کہ آپؐ کو تکلیف ہوتی ہے آپؐ ایک ہی گھر میں آرام سے رہیں اور خود ہی انہوں نے عائشہؓ کا گھر تجویز کیا۔بعض ایک سے زیادہ شادیوں کو ظلم قرار دیتے ہیں مگر یہ ظلم نہیں کیونکہ ایسی ضرورتیں پیش آتی ہیں جب شادی نہ کرنا ظلم ہو جاتا ہے۔ایک عورت جو پاگل ہو جائے، کوڑھی ہوجائے، یا اس کی اولاد نہ ہو اس وقت اس کا خاوند کیاکرے؟ اگر وہ دوسری شادی نہیں کرے گا اور کسی بدکاری وغیرہ میں مبتلاء ہو گا تو یہ اس کا اپنی جان اور سوسائٹی پر ظلم ہو گا اور اگر وہ کوڑھی ہےتو اپنی جان پر ظلم ہو گا اگر اولاد نہیں ہوئی تو قوم پر ظلم ہو گا اور اگر وہ پہلی عورت کو جدا کر دے تو یہ حد درجہ کی بے حیائی اور بے وفائی ہو گی کہ جب تک وہ تندرست رہی یہ اسکے ساتھ رہا اور جب وہ اسکی مدد کی سب اوقات سے زیادہ محتاج تھی اس نے چھوڑ دیا۔غرض بہت سے مواقع ایسے پیش آتے ہیں کہ دوسری شادی جائز ہی نہیں کہ یہ بہت کمزور لفظ ہے بلکہ ضروری نہی بلکہ ایک قومی فرض ہو جاتا ہے۔میاں بیوی کے تعلقات کے بعد اولاد پیدا ہوتی ہے جو تمدن کی گویا دوسری اینٹ ہیں اولاد کے متعلق اسلام نے یہ حکم دیا کہ ان کی عمدگی سے پرورش کی جائے۔والدین پر ان کا پالنا اور ان کی ضروریات کو پورا کرنا فرض ہے ان کو خرچ کی تنگی کی وجہ سے مار دینا جیسا کہ وحشی قبائل میں روج تھا، بصورت لڑکیوں کے بوجہ تکبر کے مار دینا جیسا کہ کئی جنگی قوموں میں دستور تھا منع ہے۔اولاد کی پیدائش کے متعلق حکم دیا کہ خاوند اگر چاہے کہ اسکے اولاد نہ ہو تو اس کے لئے عورت سے اجازت لینا ضروری ہو گا بغیر عورت کی اجازت کے اولاد کو روکا نہیں جا سکتا۔پھر فرمایا کہ بچوں کو علم اور اخلاق سکھائے جائیں اور بچپن سے ان کی تربیت کی جائے تاکہ وہ بڑے ہو کر مفید بن سکیں۔اولاد کے درمیان یکساں سلوک کرنے کا حکم دیا۔بچپن میں ان کی خواہشات اور ضروریات کے مطابق سلوک تو خیر اور بات ہے مگر جب وہ بڑے ہو جائیں تو حکم دیا کہ جو تحفہ دے وہ سب کو دے ورنہ کسی کو نہ دے۔اولاد کو تربیت کی خاطر اگر مارنا پڑے تو حکم دیا کہ منہ پر نہ مارے کہ تمام آلاتِ حواس اس میں جمع ہیں اور ان کے نقصان سے بچہ کی آئندہ زندگی پر اثر پڑتا ے۔لڑکیوں کی تربیت کے متعلق خاص حکم ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس کے گھر میں