انوارالعلوم (جلد 8) — Page 275
انوار العلوم جلد ۸ ۲۷۵ احمدیت یعنی حقیقی اسلام زندگی کی روح رواں ہے برباد ہو رہا ہے اور خطرہ ہے کہ تھوڑے ہی عرصہ میں یہ بنیاد کھو کھلی ہو کر اوپر کی عمارت کو بھی صدمہ پہنچادے۔ اب رہا کثرت ازدواج کا مسئلہ اس کی طرف ابھی تک مغرب نے سنجیدگی سے توجہ نہیں کی لیکن آخر اس کو ایسا کرنا پڑے گا کیونکہ قدرت کے قوانین کا مقابلہ دیر تک نہیں کیا جا سکتا۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک عیاشی کا ذریعہ ہے لیکن اگر اسلام کے احکام پر غور کیا جائے تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ عیاشی نہیں بلکہ قربانی ہے اور قربانی بھی عظیم الشان قربانی ۔ عیاشی کسے کہتے ہیں ؟ اس کو کہ انسان اپنے دل کی خواہش کو پورا کرے مگر اسلامی احکام کے ماتحت ایک سے زیادہ شادیوں میں دل کی خواہش کس طرح پوری ہو سکتی ہے ؟ اسلام حکم دیتا ہے کہ ایک بیوی خواہ کتنی بھی پیاری ہو اس کے ساتھ ظاہری معاملہ میں فرق نہ کرو۔ تمہارا دل اسے خواہ اچھا لباس پہنانے کو چاہتا ہو مگر تم اس کو وہ لباس نہیں پہنا سکتے جب تک کہ دوسری کو بھی ویسا ہی لباس نہ پہناؤ۔ تمہارا دل خواہ اسے عمدہ کھانا کھلانے یا اس کے پاس نو کر رکھ دینے کو چاہتا ہے مگر اسلام کہتا ہے کہ تم ہرگز ایسا نہیں کر سکتے جب تک کہ ایسا ہی سلوک دوسری بیوی سے نہ کرو۔ تمہارا دل خواہ ایک بیوی کے گھر کتنا ہی رہنے کو چاہتا ہو مگر اسلام کہتا ہے کہ تم ہرگز ایسا نہیں کر سکتے جب تک اسی قدر تم دوسری بیوی کے پاس نہ رہو یعنی برابر کی باری مقرر کرو۔ پھر تمہارا دل ایک بیوی سے خواہ کس قدر ہی اختلاط کو چاہتا ہو۔ اسلام کہتا ہے بے شک تم اپنے دل کی خواہش کو پورا کرو مگر اسی طرح تمہیں اپنی دوسری بیوی کے پاس جاکر بیٹھنا ہو گا۔ غرض سوائے دل کے تعلق کے جو کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا سلوک ، معاملہ ، امداد خیر خواہی کسی امر میں فرق کرنے کی اجازت نہیں ہے کیا یہ زندگی عیاشی کی کہلا سکتی ہے یا یہ قوم اور ملک کے لئے یا ان فوائد کے لئے جن کے لئے دوسری شادی کی جاتی ہے ایک قربانی ہے اور قربانی بھی کتنی بڑی قربانی؟ کیسا دکھ اور صدمہ ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ جو لوگ اسلامی احکام سے ایک ذرہ بھر بھی واقفیت نہیں رکھتے وہ صرف یہ سن کر کہ رسول کریم اللہ نے ایک سے زیادہ شادیاں کی تھیں یہ اعتراض کر بیٹھے ہیں کہ آپ کے اخلاق نَعُوذُ بِاللهِ بعد میں آکر خراب ہو گئے تھے۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ آپ نے ملک اور قوم کی بہتری کے لئے شادیاں کیں اور آپ کے انصاف کا حال پڑھ کر انسان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ چنا چنانچه تاریخ اس پر شاہد ہے کہ آپ کو عدل کا اس قدر خیال تھا کہ آپ مرض کے شدید بخار کی حالت میں دو آدمیوں کے کاندھے پر ہاتھ