انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxi of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page xxxi

۲۴ رسول کریم میں ایم کی زندگی اور تعلیم انگلستان میں نوجوانوں کی ایک انجمن نے حضور کی خدمت اقدس میں درخواست کی کہ آپ حضرت رسول کریم مسلم کی زندگی اور تعلیم کے بارہ میں ان کے اجلاس میں تقریر فرمائیں۔ اسے قبول کرتے ہوئے حضور نے یہ مضمون لکھا جو ۲۸ ستمبر ۱۹۲۴ء کی شام کو ساؤتھ فیلڈ لندن میں بزبان انگریزی حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے پڑھا۔ نوجوانان انگلستان کو مخاطب کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: " مجھے نہایت خوشی ہوئی ہے کہ آپ لوگوں نے مجھے اس شخص کے حالات اور تعلیم بیان کرنے کا موقع دیا ہے جو انسانوں میں سے مجھے سب سے زیادہ پیارا اور عزیز ہے اور جو نہ صرف بڑی عمر کے لوگوں کا راہنما ہے بلکہ چھوٹے بچوں کا بھی راہنما ہے۔ ہر انسان کی زندگی کے کئی پہلو ہوتے ہیں اور کئی نقطہ نگاہ کو مد نظر رکھ کر اس کی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالی جا سکتی ہے۔ میں آج رسول کریم میں ایم کی زندگی اور آپ کی تعلیم کے متعلق اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے روشنی ڈالوں گا کہ نوجوان اور بچے اس سے کیا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔“ حضور نے اپنی خدا داد لیاقت کے مطابق نہایت کامیابی سے اس اہم مضمون کہ جس پر اسلام کی صداقت کا دارومدار ہے کے دونوں پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ اختصار کے باوجود یہ مشکل مضمون ایسے انداز میں بیان فرما دیا ہے کہ بچے بھی اسے آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں۔ کانفرنس مذاہب کے اختتام پر لیکچر اکتوبر زیر ۱۹۲۴ ء و ویمبلے کی مذہبی کانفرنس میں حضور کا مضمون پڑھے کا مضمون پڑھے جانے کے بعد منتظمین کی خواہش پر حضور نے یہ مختصر خطاب فرمایا جس میں اس کا نفرنس کا انتظام کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ مذہب کی دو ہی اغراض ہیں۔ ایک بندوں کا خدا سے اتحاد اور دوسرے بندوں کا خدا کے بندوں سے تعلق۔ میں دعا کرتا ہوں کہ ہم میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہوں اور اللہ کرے کہ اتحاد کی بدولت مشرق و مغرب باہم مل جائیں۔