انوارالعلوم (جلد 8) — Page 268
۲۶۸ کرتا ہے پاک اور نفع رساں چیزوں کو اور حرام قرار دیتا ہے ان چیزوں کو جو بے فائدہ ہیں۔یعنی اس کی شریعت بطور چٹّی اور سزا کے نہیں بلکہ ہر اک حکم اپنے اندر کوئی نفع یا ازالۂ ضرر رکھتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ جن کو یہ اتار ہی نہ سکتے تھے اگر اتارتے تو سزا ملتی اتارتا ہے یعنی رسوم جو کہ بوجھ بھی ہوتے ہیں مگر باوجود اس کے انسان ان کو اتار نہیں سکتا کیونکہ جانتا ہے کہ قوم ناراض ہو جائے گی اوررہنا بھی مشکل ہو جائے گا۔پھر فرماتا ہے کہ اور یہ رسولؐ وہ طوق اتارتا ہے جو انہوں نے پہنے ہوئے تھے یعنی ان عادات کو دور کرتا ہے جو بطور رسم کے تو نہ تھیں لوگ تو ان کے ترک کرنے پر سزا نہیں دیتے تھے مگر یہ خود ان کواتارنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے چنانچہ دیکھ لو رسول کریم ﷺ نے کس طرح ایک ایسی قوم میں سے جو شراب کی ایسی عادی تھی کہ آدھی رات کو اٹھ کر شراب پینا شروع کرتی تھی اور عشاء کے وقت تک شراب پیتی ہی جاتی تھی ایک حکم سے شراب کو مٹا دیا اور اس طرح مٹایا کہ پھر شراب نے بطور قومی شربت کے قدم نہ رکھ۔اب اس وقت سائنس نے اس کی مضرتوں کو بہت ہی واضح کر دیا ہے اور عام طور پر ڈاکٹر اس کے مخالف ہوتے جاتے ہیں مگر پھر بھی بعض حکومتیں باوجود سخت کوشش کے اس کا رواج اچھی طرح نہیں مٹا سکیں۔خلاصہ یہ کہ رسم اور عادات بھی گناہ کا مرتکب بنا دیتی ہیں۔ایک شراب کو شراب، ایک افیونی کو افیون، ایک کوکین استعمال کرنے والے کو کوکین نہ ملے تو وہ بیسیوں جرم کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے جن پر وہ دسری کسی صورت میں بھی آمادہ نہ ہوتا۔اوپرجو راستے گناہ کے بیان کئے گئے ہیں وہ بطور مثال کے ہیں مگر پھر بھی مضمون سمجھانے کے لئے کافی ہیں اس لئے چونکہ اخلاق کی تعلیم کے تمام ضروری پہلوؤں پر اجمالاً بحث ہو چکی ہے۔اب اسلام کی اس تعلیم کے بیان کرنے کی طرف توجہ کرتا ہوں جو اس نے تمدن کے متعلق دی ہے۔اسلام کی تعلیم تمدن کے متعلق: تمدن کے قوانین سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ قوانین مراد ہیں جن کے ذریعہ سے ان بنیادوں