انوارالعلوم (جلد 8) — Page 257
۲۵۷ ہماری اولاد نیک ہو۔گو بعض والدین اس کے خلاف بھی ملتے ہیں مگر عام قاعدہ یہی ہے کہ والدین اپنی اولاد کو بد دیکھنا پسند نہیں کرتے۔پس اس قریباً طبعی خواہش کی وجہ سے جب والدین اپنی اولاد کی نسبت ایسی دعا کریں گے تو ان کا قلب بہت ہی پاکیزہ تبدیلی حاصل کرے گا اور چونکہ بچہ پر قدرتی طور پر ہماری اولاد نیک ہو۔گو بعض والدین اس کے خلاف بھی ملتے ہیں مگر عام قاعدہ یہی ہے کہ والدین اپنی اولاد کو بد دیکھنا پسند نہیں کرتے۔پس اس قریباً طبعی خواہش کی وجہ سے جب والدین اپنی اولاد کی نسبت ایسی دعا کریں گے تو ان کا قلب بہت ہی پاکیزہ تبدیلی حاصل کرے گا اور چونکہ بچہ پر قدرتی طور پر اسی وقت کے خیالات اثر کر سکتے ہیں جس وقت بچہ کے اجزاء باپ کے جسم سے علیحدہ ہوتے ہیں اور ماں سے پیوستگی حاصل کرتے ہیں اس لئے یہ دعا جو ماں باپ کے ملنے کے وقت کے لئے سکھائی گئی ہے اگر ماں باپ کے اندر کوئی ناپاکی ہے تو اس کے بد اثرات سے بچہ کو بچا لے گی۔چنانچہ رسول کریم ﷺ صاف طور پر اس فائدہ کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرماتے ہیں۔فانہ ان یقدر بینھما ولد فی ذالک لم یضرہ شیطان ابدًا یعنی اللہ تعالیٰ ایسے بچوں کو جن کے والدین تعلق باہمی کے وقت یہ دعا پڑھ لیتے ہیں مسّ شیطان سے بچاتا ہے جس سے مراد آپ کے فقط یہ ہے کہ اس شیطانی اثر سے بچاتا ہے جو ماں باپ سے منتقل ہو سکتا تھا نہ کہ کلی طور پر کیونکہ اس دعا کا طبعی اثر ہرگز صحبت بد کے اثر سے یا اور دوسرے اثروں سے نہیں بچا سکتا۔باقی رہا اس دعا کا ثر بحیثیت دعا کے تو وہ تو اس وقت ظاہر ہو گا جبکہ یہ دعا اس حد تک پہنچے گی جس حد تک پہنچ کر دعا قبولیت کا مقام حاصل کرتی ہے ورنہ خالی الفاظ کے دہرا دینے سے وہ اثر ظاہر نہیں ہو سکتا۔چھٹا ذریعہ جو اسلام نے اخلاق کی درستی کے لئے اختیار کیاہے وہ ان راستوں کو کھولنا ہے جن کے ذریعہ سے ایسی تحریکات دل میں داخل ہوتی ہیں جو نیکی کی طاقت کو ابھارتی ہیں ان میں سے بعض اوپر بیان ہو چکی ہیں جیسے مثلاً دعا ہے، عبادت ہے، روزہ ہے، ذکر الٰہی ہے اس لئے ان ذرائع کو اس جگہ دہرانے کی ضرورت نہیں۔پس میں تین اور راستوں کا بطور مثال ذکر کرتا ہوں۔میں قرآن کریم کے اس حکم کو لیتا ہوں جو اس نے صحبت نیک کے متعلق دیا ہے۔وہ فرماتا ہے كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (التوبة:119) اے مسلمانو! سچے لوگوں کی صحبت میں بیٹھا کرو۔یہ ثابت شدہ بات ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے گرد و پیش کے حالات سے متأثر ہوتا ہے۔پس جو شخص اپنی صحبت کے لئے نیک لوگوں کو اور اخلاق والے لوگوں کو چنے گا وہ بہت جلد اپنے اندر ایک عجیب تبدیلی دیکھے گا جو اسے کھینچ کر نیکی کی طرف لے جائے گی اور بد خیالات کے ترک کر دینے میں اس کو مدد دے گی۔اسلام نے اس پر ایسا زور دیا ہے کہ ہمیشہ سے مسلمان اپنے وطن اور مال کو چھوڑ