انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 256

۲۵۶ پانچواں ذریعہ جو اسلام نے انسان کے اخلاق کی درستی کے لئے تجویز کیا ہے وہ بظاہر پہلے ذریعہ کے مخالف نظر آتا ہے مگر مؤید اور مطابق۔اور وہ یہ ہے کہ اسلام نے اس بد اثر کو مٹانے کی کوشش کی ہے جو مخفی طور پر ماں او رباپ سے بچہ اخذ کر لیتا ہے اس تعلیم کو پہلی تعلیم کے مخالف نہیں سمجھنا چاہئے۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ انسان پاکیزہ فطرت لے کر آتا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ ماں باپ کے اثر کے ماتحت بعض بدیوں کے میلان کو بھی لے کر آتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ فطرت اور میلان میں فرق ہے فطرت تو وہ مادہ ہے جسے ضمیر کہتے ہیں۔یہ ہمیشہ پاک ہوتی ہے کبھی بد نہیں ہوتی خواہ ڈاکو یا قاتل کے ہاں بھی کوئی بچہ کیوں پیدا نہ ہو اس کی فطرت صحیح ہو گی مگر ایک کمزوری اس کے اندر رہے گی کہ اگر اس کے والدین کے خیالات گندتے تھے تو ان خیالات کا اثر اگر کسی وقت اس پر پڑے تو یہ ان کو جلد قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔جیسا کہ مرضوں کا حال ہے کہ جو بیماریاں پختہ ہوتی ہیں اور جزو بدن ہو جاتی ہیں ان کا اثر بچوں پر اس رنگ میں آجاتا ہے کہ ان بیماریوں کے بڑھانے والے سامان اگر پیدا ہو جائیں تو وہ اس اثر کو نسبتاً جلدی قبول کر لیتے ہیں۔یہ اثر جو ایک بچہ اپنے ماں باپ سے قبول کر لیتا ہے ان خیالات کا نتیجہ ہوتا ہے جو ماں باپ کے ذہنوں میں اس وقت جوش مار رہے ہوتے ہیں جب وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔گو یہ اثر نہایت ہی خفیت ہوتا ہے اور بیرونی اثرات بیھ اس کو بالکل مٹا دیتے ہیں مگر اسلام نے اس باریک اثر کو نیک بنانے کابھی انتظام کیاہے اور وہ یہ کہ ماں باپ کو نصیحت کی ہے کہ جس وقت وہ علیحدگی میں آپس میں ملیں تو یہ دعا کر لیا کریں اللھم جنبنا الشیطان و جنب الشیطان ما رزقتنا اے خدا ہمیں بد وساوس اور گندے ارادوں اور ان کے محرک لوگوں سے محفوظ رکھ او رجو ہماری اولاد ہو اس کو بھی ان سے محفوظ رکھ۔یہ دعا علاوہ اس اثر کے جو بحیثیت دعا کے اس میں پایا جاتا ہے ایک اور بہت بڑا اثر رکھتی ہے اور وہ یہ کہ والدین کے ذہنوں میں یہ خیالات کی ایک نئی او رعمدہ رَو چلا دیتی ہے جس کی وجہ سے اگر ان کے عام خیالات پوری طرح پاک نہ بھی ہوں تب بھی اس وقت پاکیزگی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔کیونکہ اول تو دعا اور اس مضمون کی دعا خود ہی خیالات کو نیکی کی طرف پھیر دیتی ہے دوسرے دیکھا گیا ہے کہ والدین کو اپنی اولاد کی نسبت یہ بہت خیال ہوتا ہے کہ گو ہم بد ہیں مگر