انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxix of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page xxix

۲۲ مکمل مذہبی رواداری اور امن و امان قائم رکھنے کا اعلان کر چکے تھے اور یہ بھی کہ افغانستان میں سب احمدی محفوظ ہیں اور ان پر کوئی زیادتی نہیں کی جا رہی۔ ۱۶ جولائی ۱۹۲۴ء میں حکام نے مولوی نعمت اللہ صاحب شہید کو بلا کر ان کا بیان لیا۔ اگست ۱۹۲۴ء کو علماء کونسل نے مرتد قرار دے کر قتل کا فتوی جاری کیا۔ ۳۱۔ اگست کو پا بہ جولاں کابل کی گلیوں میں پھرایا گیا اور پھر کمر تک زمین میں گاڑ کر پتھر مار مار کر شہید کر دیا۔ مرحوم نے اپنے عقائد پر ثابت قدمی اور راہ حق میں جان قربان کرنے کی بہت اچھی مثال قائم کی۔ آپ نے آخری خواہش اپنے والدین سے ملاقات کی بجائے اپنے رب کی عبادت کر کے پوری کی۔ لندن میں ہندوستانی طلباء سے گفتگو لندن میں ہندوستان کے مسلمان طلباء نے حضور کے اعزاز میں دو دفعہ ٹی پارٹی کا انتظام کیا۔ جواباً حضور نے بھی انہیں ۲۰ ستمبر ۱۹۲۴ء کو دعوت پر بلایا ۔ چنانچہ بڑی تعداد میں نوجوان طلباء اس میں شامل ہوئے۔ چائے کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا جو رات کے کھانے تک جاری رہا۔ طلباء نے غیر معمولی دلچسپی لی اور حضور کی شخصیت اور وسعت علم سے بہت متاثر ہوئے۔ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے یہ گفتگو مرتب کر کے الفضل ۳۰۔ اکتوبر ۱۹۲۴ء میں شائع کروادی ۔ جَزَاهُ جَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا سوال کرنے والوں میں خلیفہ عبدالحکیم صاحب نمایاں نظر آتے ہیں۔ یہ حیدر آباد دکن کی عثمانیہ یونیورسٹی میں پروفیسر تھے ۔ کا نفرنس مذاہب میں کامیاب لیکچر اور اس کا اثر ۲۵ ستمبر ۱۹۲۴ء کو حضور نے احباب جماعت کے نام پانچواں مکتوب گرامی لندن سے تحریر فرمایا۔ اس میں آپ نے اپنے خدام کو یہ خوشکن خبر دی کہ کانفرنس مذاہب میں لیکچر بہت کامیاب رہا ہے۔ صدر اور دیگر معززین نے مبارکبادیں دیں دیں۔ اس لیکچر سے اسلام اور سلسلہ احمد نیہ کی بہت شہرت ہوئی۔ خط کے دوسرے حصہ میں حضور نے حضرت میر صاحب کی وفات اور مرکز سے ملنے والی دیگر پریشان کن خبروں کا ذکر فرمایا ہے جو حضور کے ایک برویا کے مطابق