انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 241

۲۴۱ مگر وہ ان خوبویں سے محروم ہیں جو قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ میں تفصیل سے اس مضمون کو بیان نہیں کر سکتا ورنہ ایک ایک طبعی تقاضے کو اسلام نے انسانی ارادے اور عقل کے ماتحت لا کر اس سے اخلاقی تعلیم پیدا کر دی ہے اور دوسرے مذاہب کی طرح صرف طبعی تقاضوں یا ان کے کسی پہلو کا نام اخلاق رکھ کر اس پر زور نہیں دیا۔اسلام نے درحقیقت اس پیچیدہ سوال کو حل کر دیا ہے جو اخلاق فاضلہ کے متعلق طبائع میں اٹھتا ہے اور اب تک اٹھ رہا ہے۔یعنی یہ کہ اخلاق کی تعریف کیا ہے؟ کیونکہ اسلام یہ بتاتا ہے کہ اخلاق تمام طبعی تقاضوں کے درمیان صلح کرانے کا نام ہے جس طرح تمدن تمام بنی نوع انسان کے درمیان صلح کرانے کا نام ہے۔وہی تعلیم اخلاق کہلا سکتی ہے جو تمام طبعی تقاضوں کے لئے کام کرنے کا راستہ نکالتی ہے اور ایسی قیود مقرر کرتی ہے کہ کوئی طبعی تقاضا دوسرے تقاضے کے علاقے میں نہ گھس جائے۔نقم رأفت کی حدود میں نہ جائے اور رأفت نقم کی حدود میں نہ جائے محبت نفرت کے علاقہ میں نہ گھستے اور نفرت محبت کے علاقہ میں نہ گھسے۔غرض یہ کہ سب طبعی تقاضے اپنے اپنے دائر ہ میں باقاعدہ چکر لگائی جس طرح کہ ستارے اپنے راستوں میں چکر لگاتے ہیں اور کوئی دوسرے کے لئے مانع نہ بنے بلکہ جس وقت اس کا علاقہ شروع ہو وہیں رک کر کھڑا ہو جائے گویا انسانی دماغ کو ایک حکومت فرض کیا جائے تو طبعی تقاضے اس میں بسنے والے لوگ ہیں اور اخلاق وہ قانون ہے جس کے ذریعہ سے ان میں امن قائم رکھا جاتا ہے۔کیا ہی لطیف تعریف اور کیسا واضح بیان ہے۔اخلاق کے مدارج: اب میں مقصد ثانی کے سوال ثانی کو لیتا ہوں یعنی اس امر کو بیان کرتا ہوں کہ اسلام نے اخلاق کے مختلف مدارج کیا بیان کئے ہیں؟ یہ سوال جیسا کہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے اخلاق کی پابندی کے لئے نہایت ضروری ہے اور ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ ظاہری تعلیم کے لئے کلاس بندی کی ضرورت ہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو اگر مدارس اور کالجوں کی تعلیم کو اس طرح درجوں میں تقسیم نہ کیا جاتا تو بہت سے لوگ تعلیم سے محروم رہ جاتے کیونکہ بہت سے لوگ اس امر کا اندازہ نہ کر سکتے کہ انہوں نے کہاں تک