انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 240

۲۴۰ نیت نہ رکھ کہ اس کے بدلے میں یہ لوگ بھی مجھ سے کوئی سلوک کریں گے۔جس طرح زمیندار دانہ ڈالتے ہوئے امید رکھتا ہے کہ یہ بڑھ جائے گا اور میں کاٹوں گا اور نہ اپنے مال کو پراگندہ کر یعنی یہ نہ کر کہ سب مال لٹا کر خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ جا۔یا یہ کہ سب مال اپنے پر خرچ کرے اور دوسروں کو نہ دے اور نہ مال اپنےرشتہ داروں یا غرباء کو اس طرح دے کہ وہ امتحان میں پڑیں۔یعنی بجائے فائدہ کے ان کو نقصان ہو۔وہ کاہل یا سست ہو جائیں یا سوال کی عادت ان میں پیدا ہو جائے یا عیاش ہو جائیں۔اسی طرح اموال کے خرچ کرنے کے متعلق یہ ہدایت بھی دی ہے کہ وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاريات:20) مسلمانوں کے اموال میں ان لوگوں کے لئے حق ہے جو بولنے سے محروم ہیں یعنی ان میں قوت گویائی نہیں او راپنی تکالیف کو بیان نہیں کر سکتے جیسے کہ جانور ہیں وہ اپنی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتے۔پس چاہئے کہ اپنے صدقات میں سے ایک حصہ جانوروں کو بھی دیا جائے۔یا جو جانور بیمار اور ضعیف ہوں ان کی خبرگیری کی جائے یا جو جانور گھر میں ہوں ان کے آرام کا خاص خیال رکھا جائے۔اسی طرح اسلام نے صبر اور شکر اور احسان اور سچائی اور اعتماد اور میانہ روی اور وفاداری اور راز داری اور لوگوں کی حاجتوں کو پورا کرنے اور اصلاح بین الناس اور خوف اور رجا قناعت اور ایثار اور مؤاسات اور حلم اور افادت او ر احیاء اور وعدہ کا پورا کرنا اور خوش چہرہ سے لوگوں سے ملنا اور وقار اور مہمان نوازی اور عیادت مریض اور امانت اور دیانت اور غم اور غیبت اور چغلی اور جھوٹ اور ایذاء رسانی اور تجسس اور لوگوں کی باتیں سننی اور لوگوں کے خطوط پڑھنے اور عیب ظاہر کرے اور دھوکا اور احسان جتانے اور بغاوت اور جسمانی عذاب دینے اور ریاء اور سمعت اور بیہودہ بکواس اور لغو قسموں کے کھانے او رخوشامد کرنے اور چوری اور قتل اور ظلم اور تجارت میں دھوکا کرنے او ر ایسے امور میں دخل دینے جن سے اس کا تعلق نہیں اور یتامیٰ اور بیواؤں کی خبرگیری اور بزدلی وغیرہ تمام اخلاقی امور کےمتعلق وہ صحیح تعلیم دی ہے جو افراط اور تفریط سے پاک ہے اور سچی پاکیزگی پیدا کرنے کا موجب ہے مگر اس جگہ اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔خلاصہ یہ کہ تمام طبعی عادات کو اسلام نے قیود کے ساتھ اخلاق فاضلہ میں بدل دیا ہے اور اس نکتہ کو سوائے اسلام کے اور کوئی مذہب نہیں سمجھا اور نہ اس نے پیش کیا ہے نہ کسی پہلے مذہب نے بعد میں بننے والے مذہب نے جن کی بنیاد گو قرآن کریم کی موجودگی میں رکھی گئی ہے