انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 239

توا را اعلوم جلد ۸ ۲۳۹ احمدیت مینی حقیقی اسلام اس کی حفاظت نہ کر سکے اور نام ہی کی رہبانیت رہی۔ دیکھو کس خوبی سے اس جذبہ کی حد بندی کی ہے۔ ایک طرف اس کو نکاح کے ذریعہ سے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ پھر نکاح کے باہر اس کے استعمال سے روکا ہے۔ نکاح نہ کرنے کے عہد کو بھی نا پسند کیا ہے کہ اس سے اس تقاضے کو گویا ہمیشہ کے لئے دبا دینا ہے اور اس غرض کو مفقود کر دینا ہے جس کے لئے یہ تقاضا یعنی بقائے نسل کی خواہش پیدا کی گئی تھی۔ اگر سب لوگ اس پر عمل کرنے لگیں تو کچھ ہی دنوں میں دنیا مفقود ہو جائے اور یہ بھی فرمایا کہ طبعی تقاضوں کو مٹانا نا ممکن ہے کیونکہ حقیقت کو خیال اور ارادے سے نہیں منایا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال تھا کہ پھر جن کو نکاح کی توفیق نہیں وہ کیا کریں؟ تو فرمایا کہ ان کو عارضی طور پر اپنی خواہشات کو دبانا چاہئے مگر یہ جائز نہیں کہ اس خواہش کو بالکل مناد میں کیونکہ اس سے پیدائش کی غرض باطل ہو جاتی ہے۔ اب دیکھو اسلام کے سوا کونسا مذہب ہے جس نے اس تقاضے کو ایک طبعی تقاضے سے جو ادئی سے ادنیٰ جانور میں بھی پایا جاتا ہے خواہ وہ خوردبینی کیڑا ہی کیوں نہ ہو ایسے اعلیٰ درجہ کے اخلاق تک جن کی بناء باریک فلسفیانہ مسائل پر ہے پہنچا دیا ہے۔ ایک طبعی تقاضا انسان کے اندر اظہار ملکیت یا تصرف کا ہے اس تقاضے کے ماتحت وہ اپنے اموال کو خرچ کرتا یا بند کرتا ہے اس کے لئے بھی اسلام نے قیود لگائی ہیں۔ مثلا اول قید یہ لگائی ہے کہ أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُم ۱۲۴ ، جو مال تمہارا کھایا ہوا مایا ہوا ہے اور اچھا مال ہے اس میں سے خرچ کرو۔ یہ نہیں کہ دوسروں کے اموال پر تصرف کر کے ان کو خرچ کرنے لگ جاؤ ۔ دوسری قیود یہ لگائی ہیں وَاتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَدِّرُ تَبْذِيرًا ۔ (۱) اپنے مال میں سے ان قریبوں اور رشتہ داروں کو جن کی کفالت تیرے سپرد ہے ان کا حق دے۔ اس جگہ اس امر کا بھی اشارہ کیا ہے کہ اسلام کے نزدیک قریبی رشتہ داروں کی کفالت بڑے رشتہ داروں پر فرض ہے۔ (۲) دوسرا حکم یہ دیا ہے کہ غریبوں اور مسکینوں پر بھی اس مال میں سے خرچ کرنا چاہئے یعنی ایک حصہ ان کو بھی دے۔ (۳) تیسرا حکم یہ دیا کہ وَلَا تُنذِرْ تَبْذِيرًا - تَبْذِير کے معنے عربی زبان میں دانہ ڈالنے کے یا پراگندہ کرنے یا امتحان لینے کے ہوتے ہیں۔ پس اس کا مطلب یہ ہوا کہ خرچ کرتے وقت یہ