انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 236

۲۳۶ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائدة:9) یعنی کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس امر پر نہ اُکسائے کہ تم عدل چھوڑ دو نہیں بلکہ باوجود اس کی دشمنی کے تم اس سے عدل کا معاملہ کرتےرہو گویا دوسرے لفظوں میں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ تُو اپنے دشمن سے بھی دشمنی نہ کرو۔اسی طرح فرماتا ہے لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ (الممتحنة:9) اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں سے جو تمہارے دین میں مخالف تو ہیں لیکن تم سے اس غرض سے کہ تم کو جبراً تمہارے دین سے پھرا دیں لڑتے نہیں اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالتے نہیں نیکی کرنے اور ان کے ساتھ عدل کرنے سے نہیں روکتا۔یعنی تُو ان لوگوں سے بھی نیک سلوک کر گو وہ تیرے مذہبی دشمن ہیں لیکن دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ(هود:114) تم ان لوگوں کی طرف مت جھکو جو ظالم ہیں یعنی اسلا م پر قائم نہیں اب ایک طرف تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم کفار سے نیک سلوک کرو دوسری طرف فرماتا ہے کہ تم ان کی طرف جھکو نہیں اس کے یہی معنے ہیں کہ دنیوی معاملات میں تو ان سے نیک سلوک کرو لیکن ان کے وہ اعمال جو تقویٰ اور طہارت کے خلاف ہیں ان سے نفرت کرو۔ایک دوسری جگہ پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ (الحجرات:8) لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان کی محبت دی ہے اور اس کو تمہارے دلوں میں خوبصورت کر کے دکھایا ہے او رکفر اور نافرمانی اور حد سے گزر جانے کے متعلق تمہارے دلوں میں کراہت کے جذبات پیدا کئے ہیں مگر ساتھ ہی رسول کریم ﷺ کی نسبت فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:4) شاید تو اس غم میں کہ خدا کے دین کے منکر صداقت کو قبول نہیں کرتے اپنے آپ کو ہلاک کر دے گا یعنی ان کی گمراہی کو دیکھ کر تیرے دل کو اس قدر صدمہ پہنچتا ہے کہ تو ان کی محبت کی وجہ سے خود ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ اسلام کے نزدیک بد کی تو بے شک خیر خواہی کرنی چاہئے مگر اس کی بدی کی حالت سے نفرت کرنی چاہئے تبھی اخلاق کامل ہوتے ہیں۔اب میں ایک طبعی جذبہ کو لیتا ہوں اور یہ خواہش ترقی کا جذبہ ہے۔انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے دوسرے ساتھیوں سے آگے نکل جائے بلکہ یہ جذبہ جانوروں تک میں بھی پایا جاتا ہے۔دو