انوارالعلوم (جلد 8) — Page 235
انوار العلوم جلد ۸ ۲۳۵ احمدیت یعنی حقیقی اسلام انقباض ظلم پر آمادہ ہو جانا اور جب کم ہو تو اسے بے غیرتی کہتے ہیں یعنی باوجود اس کے کہ ایک چیز حیاء یا اکرام کے خلاف ہو پھر بھی اس کو دیکھ کر دل میں اس کے لئے نفرت یا انقباض محسوس نہ کرنا۔ پس نفرت بُری چیز نہیں۔ نفرت تو ایک طبعی جذبہ ہے ہاں اس کا غیر محل استعمال بُرا ہے چنانچہ قرآن کریم میں بار بار عداوت کو بُرا قرار دیا گیا ہے ہمیشہ عداوت کو کفار اور سرکش لوگوں کی صفت بتایا ہے ایک جگہ بھی مومن کی نسبت نہیں کہا گیا کہ وہ دوسروں سے عداوت کرتا ہے۔ صرف دو تین جگہوں پر اللہ تعالیٰ اور مومنوں کی نسبت یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور ان تمام مقامات پر عربی محاورات کے مطابق اس سے مراد د شمن کی عداوت کا بدلہ دینے کے ہیں نہ کہ خود عداوت کرنے کے مگر اسلام جس طرح عداوت کو ناپسند کرتا ہے اسی طرح نفرت کے بالکل مٹا دینے کو بھی نا پسند کرتا ہے کیونکہ غیرت بھی مومن کے اخلاق میں سے ہے۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک بات کو ہم ناپسند کریں اور اس کے متعلق ہمارے دل میں انقباض پیدا نہ ہو۔ بدی کے معنے روحانی غلاظت کے ہیں جب ہم ظاہری غلاظت سے کسی کو ملوث دیکھتے ہیں تو ہمیں اس کے اس فعل سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور طبیعت میں اس کی طرف دیکھنے سے انقباض ہوتا ہے مثلاً کسی چہرے پر کوئی گندی چیز لگی ہوئی ہو۔ یا مثلاً اس نے ناک صاف نہ کیا ہو یا اس کے کپڑوں پر ناپاک چیزیں لگی ہوئی ہوں تو ایسا شخص جب ہمارے سامنے آتا ہے تو کیا ہم اس کو دیکھ کر اپنے دل میں ایک گھن محسوس نہیں کرتے؟ خواہ وہ ہمارا بیٹا ہی کیوں نہ ہو اور کیا ہمارے اس فعل کو بڑا سمجھا جاتا ہے یا ولی پاکیزگی کی علامت سمجھا جاتا ہے ؟ کیا وجہ ہے کہ اگر کسی کے بد فعل کو دیکھ کر ہمارے دل میں اس فعل سے نفرت پیدا ہو اور ہمارا دل منقبض ہو تو اسے بُرا کہا جائے؟ یہ تو ایک مستحسن فعل ہو گا اور تعریف کے قابل اور اس نفرت کو جو صحیح طور پر اور بر محل استعمال ہو گی ہم غیرت کے نام سے موسوم کریں گے۔ کے اصل بات یہ ہے کہ نفرت کو بُرا قرار دینے والے لوگوں نے ایک حقیقت کو نہیں سمجھا اور وہ یہ کہ بد اور بدی میں فرق ہے انہوں نے اس امر پر تو غور کیا کہ بد کی بھی ہمیں خیر خواہی کرنی لیکن یہ نہ سوچا کہ بد کی خیر خواہی کے ساتھ ہمیں بدی سے نفرت چاہئے ۔ اگر ہم بد کی بدی سے نفرت نہیں کریں گے تو اس کی اصلاح کا جوش بھی ہمارے دل میں نہیں پیدا ہو گا۔ اسلام نے اس فرق کو بیان کیا ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَجْرِمَنَّكُمْ چاہئے