انوارالعلوم (جلد 8) — Page 233
۲۳۳ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (التوبة:24) کہہ دے کہ اگر تمہارے باپ ماں اور اولاد اور بہائی بہنیں اور میاں یا بیوی اور تمہارا قبیلہ اور وہ مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے خراب ہونے سے تم ڈرتے ہو اور رہائش کی جگہیں یا وطن جن کو تم پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول اور دین کے لئے کوشش کرنے کی نسبت تم کو زیادہ پسند ہیں تو تم اس وقت تک انتظار کرو جب تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے متعلق کوئی فیصلہ کرے اور اللہ تعالیٰٰ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنی ذمہ داریوں کو بھول جاتے ہیں۔کس لطیف پیرایہ میں اس محبت کو جو خلق ہے حقیقت بیان کی ہے جس کا جس قدر درجہ ہے اسی قدر اس سے محبت کی جائے خدا تعالیٰ سے خدا کی شان کے مطابق رسول سے رسول کی شان کے مطابق دین سے اس کے رتبہ او راہمیت کے مطابق والدین سے ان کے درجہ کے مطابق اولاد سے ان کے تعلق کے مطابق غرض ہر ایک کے درجہ کو مدنظر رکھا جائے اگر ایسا نہیں تو وہ محبت نیک خُلق ہیں کہلائے گی بلکہ ایک طبعی جوش اور حیوانیت کہلائے گی۔مثلاً اگر کوئی شخص اپنے والدین کو ایک عورت کی وجہ سے چھوڑتا ہے یا اپنے وطن کی آواز پر اپنے مال کی محبت کی وجہ سے کان نہیں دھرتا تو اس شخص کوہم ہرگز اس وجہ سے کہ وہ محبت کرتا ہے نیک نہیں کہیں گے اس نے بے شک محبت کی مگر عقل اور فکر کی حکومت سے آزاد ہو کر اس لئے کوئی اچھا خلق نہیں دکھایا۔دوسری شرط محبت کے لئے یہ ہے کہ اس میں سابق احسان کو زیادہ مدنظر رکھا جائے بہ نسبت موجودہ لذت یا آئندہ کی امید کے۔اس شرط کے ماتحت وہ محبت جو نیک خلق کہلائے گی وہ والدین کی محبت ہو گی نہ کہ اولاد کی محبت یعنی خالی ان سے پیار کوئی نیک خلق نہیں بلکہ محض ایک طبعی تقاضا ہے کسی ماں کو کہہ کر دیکھو کہ وہ اپنے بچہ کی خاطر تکلیف نہ اٹھائے دیکھو وہ اس پر خوش ہوتی ہے یاناراض۔درحقیقت وہ جو کچھ کر رہی ہوتی ہے محض بقائے نسل کے طبعی تقاضے کے ماتحت کر رہی ہوتی ہے۔اس کی محبت صرف ایک طبعی تقاضا ہے لیکن بچہ کا والدین سے پیار کرنا ایک خُلق ہے کیونکہ طبعی طور پر والدین اپنا کام کر چکے ہیں نیچر ان سے جو فائدہ اٹھانا چاہتی تھی و ہ حاصل کر چکی ہے اب وہ ان کو نکما وجود سمجھتی ہے۔پس جو شخص ان سے محبت کرتا ہے وہ ایک نیک