انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 224

۲۲۴ ہے اور اس کو ایسے عجیب انداز سے دیکھتا ہے کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ہمدردی کا اظہار کر رہا ہے اور پھر بعض دفعہ اسے محبت سے چاٹنے لگتا ہے۔پس اس قسم کی تعلیم ایسی ہی ہے جیسے کسی مذہب کا یہ تعلیم دینا کہ اے لوگو! کھانا کھایا کرو، یا پانی پیا کرو، نیند آئے تو سو جایا کرو ان طبعی تقاضوں کے پورا کرنے کے لئے کوئی شخص کسی مذہب کا محتاج نہیں ہے۔ان تقاضوں کو اس کی فطرت خود پورا کرواتی ہے اور جو مذہب اس میں دخل دیتا ہے وہ گویا اپنی کمزوری کا اظہار کرتا ہے کیونکہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اخلاق کی حقیقت سے واقف نہیں۔کیا کوئی شخص کوئی ایسا ملک بتا سکتا ہے جہاں لوگ محبت نہ کرتے ہوں یا ہمدردی کا مادہ نہ رکتھے ہوں یا عفو کا ان میں رواج نہ ہو یا غرباء کو کچھ نہ دیتے ہوں؟ یا کوئی شخص ایسا بھی دنیا میں ہے کہ جو ان صفات کا اظہار نہ کرتا ہو اور ان سے خالی ہو؟ اگر نہیں تو مذہب کو اس میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اگر نرمی کرو، عفو کرو، دلیری کرو سے مذہب کی یہ مراد ہو کہ سختی نہ کرو، سزا نہ دو، خوف کا اظہار کسی صورت میں نہ کرو تو پھر بیشک یہ ایک نئی بات ہو گی مگر یہ امر بھی فطرت کے مخالف ہو گا۔فطرت نے یہ باتیں انسان کے اندر رکھی ہیں اور ان کو کسی صورت میں چھڑوایا نہیں جا سکتا او رنہ ان کو چھوڑنا انسان کو نفع دے سکتا ہے کیونکہ جو باتیں فطرت میں پائی جاتی ہیں وہ ہمیشہ انسان کے لئے کارآمد ہوتی ہیں۔ان کو چھڑوانا اس کی اخلاقی حالت کو گرا دیتا ہے نہ کہ اس میں خوبی پیدا کرتا ہے مثلاً یہ کہنا کہ نرمی ہی کرو سختی نہ کرو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ طالب علم کو استاد کبھی نہ دانٹے۔ماں باپ بچوں کو کبھی تنبیہہ نہ کریں، حکومت اپنے باغیوں کا کبھی مقابلہ نہ کرے اور خوف نہ کھاؤ کے یہ معنے ہوں گے کہ خواہ غلط طریق پر چلے جا رہے ہو اس سے پیچھے نہ ہٹو اور انجام سے نہ ڈرو اور کسی نقصان کو خواہ دین یا مذہب کا ہی کیوں نہ ہو پروانہ کرو اور کوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا کہ یہ اخلاق فاضلہ ہیں۔غرض کہ اخلاق یہ ہیں کہ طبعی حالتوں کو ان کے محل اور موقع پر استعمال کیا جائے اور صرف طبعی حالتوں پر زور دینا عبث فعل ہے اور بعض طبعی حالتوں سے روکنا فطرت کے خلاف اور فساد اور خرابی پیدا کرنے کا موجب ہے۔پس وہی مذہب اخلاق کی حقیقت کو سمجھتا ہے اور وہی مذہب اخلاق کی تعلیم دیتا ہے جو اس حقیقت کے ماتحت اپنے احکام کو رکھتا ہے نہ وہ جو صرف طبعی حالتوں کو دہراتا جاتا ہے۔اور جہاں تک میرا علم جاتا ہے صرف اسلام ہی ہے کہ جس نے اس حقیقت کو