انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 217

۲۱۷ جو اس جماعت میں پایا جاتا ہو جس سے وہ تعلق رکھتا تھا اس کو یہ خیال ہو گیا ہو کہ میں جو کچھ کہتا ہوں خدا تعالیٰ کی طرف سے کہتا ہوں اور یہ دھوکا ان قوموں میں جو لفظی الہام کےقائل ہیں بہت آسانی سے لگ سکتا ہے کیونکہ اگر ان میں سے کوئی شخص کسی موعود کے متعلق غور کر رہا ہو کہ وہ کب آئے گا اور بعض عام مشابہتیں جو سینکڑوں آدمیوں میں پائی جا سکتی ہیں اس کو اپنے اندر معلوم ہوں اور یہ خیال پیدا ہو جائے کہ شاید میں ہی وہ شخص ہوں تو بالکل قرین قیاس ہے بلکہ اغلب ہے کہ اگر ذرا بھی اسے کسی نہ کسی سبب سے رسوخ حاصل ہے تو وہ دیانتداری سے یہ خیال کر بیٹھے کہ جو مجھے خیال پیدا ہوا ہے یہ الہامی ہی تھا اوراس کے بعد جب وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ میں ہی وہ موعود ہوں تو چونکہ لفظاً الہام کی تو ضرورت ہی نہیں راستہ بالکل کھل جاتا ہے اپنے ہر خیال کو یہ شخص الہام اور خدا کا کلام سمجھ لے گا۔پس صرف جماعت میں قربانی اور ایثار کا پیدا ہونا جو صرف نیک نیتی پر دلالت کرتے ہیں نہ کہ خدا کی طرف سے ہونے پر، کافی نہیں بلکہ صفات الٰہیہ کا جماعت میں پیدا ہونا ضروری ہے یعنی جس طرح وہ کامل انسان جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے خدا تعالیٰ کی صفت علم اور خلق اور احیاء اور شفاء اور رزق اور مِلک وغیرہ کا مظہر تھا اسی طرح اس کی جماعت میں ایسے افراد پیدا ہو جائیں جو اس کی صحبت سے ایسی ہی صفات اپنے ظرف کے مطابق حاصل کر لیں اور گویا اس شخص کے ذریعہ سے مُردہ روحوں کا ایک حشر ہو جائے اور اسی دنیا میں قیامت آ کر قیامت کے منکروں پر ایک حجت ہو۔حضر ت مسیح موعود کی جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس صفت کو اپنے وجود سے ثابت کر رہی ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خدا کا جلال رخصت ہو گیا بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک نئی روح دنیا میں پیدا کر دی ہے اور آپ کی جماعت میں سے ہزاروں انسان ایسے ہیں جنہوں نے آپ کی زندگی سے زندگی پائی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کر کے اور اس سے ایک لطیف اتصال حاصل کر کے یقین اور وثوق کا مقام پایا ہے اور پھر اس کی صفات ان کے اندر بھی پید اہو گئی ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہو گئے ہیں بلکہ میں کہوں گا کہ بیشتر حصہ احمدی جماعت کا ایسا ہے جس نے اپنے نفس میں معجزات کو دیکھا ہے کسی نے کم اور کسی نے زیادہ اور حضرت کا فیض آپ کے ساتھ ہی ختم نہیں ہو گیا بلکہ جاری ہےاور جب تک خدا چاہے گا اور لوگ آپ کی تعلیم پر چلنے کی کوشش کرتے